உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسد الدین اویسی پر حملے کا نیا ویڈیو سامنے آیا، اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا ملزم، سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوا سب

    اس نئے ویڈیو میں اسد الدین اویسی کی سفید کار کے آگے دو گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ اویسی کی گاڑی تیسرے بمبر پر بتائی جارہی ہے جیسے ہی رفتار کم ہوتی ہے، حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔

    اس نئے ویڈیو میں اسد الدین اویسی کی سفید کار کے آگے دو گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ اویسی کی گاڑی تیسرے بمبر پر بتائی جارہی ہے جیسے ہی رفتار کم ہوتی ہے، حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔

    اس نئے ویڈیو میں اسد الدین اویسی کی سفید کار کے آگے دو گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ اویسی کی گاڑی تیسرے بمبر پر بتائی جارہی ہے جیسے ہی رفتار کم ہوتی ہے، حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔

    • Share this:
      لکھنؤ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم AIMIM) کے سربراہ اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) پر گزشتہ ہفتے ہوئے حملے کا ایک اور نیا سی سی ٹی وی ویڈیو منظر عام پر آیا ہے۔ اس ویڈیو میں حملہ آور اویسی کی گاڑی پر گولیاں چلاتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ اس نئے ویڈیو میں اسد الدین اویسی کی سفید کار کے آگے دو گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ اویسی کی گاڑی تیسرے نمبر پر بتائی جارہی ہے جیسے ہی رفتار کم ہوتی ہے، حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔ حملے کے بعد اسد الدین اویسی کی گاڑی تیزی سے آگے بڑھتی ہے اور پھر یو ٹرن لے کر واپس چلی جاتی ہے۔ اسی دوران اویسی کے حامیوں کی گاڑی پیچھے سے آتی ہے اور سچن کو گرا دیتی ہے۔

      دوسری جانب اویسی پر حملہ کرنے کے ملزم سچن کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے۔ اس میں سچن اسد الدین پر گولی چلانے کے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آرہا ہے اور کہا ہے، 'سر، 2014 میں ان کے بھائی اکبر الدین اویسی کا بیان آیا تھا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ سب تاج محل اور قطب مینار ہمارے آباؤ اجداد کے ہیں اور تم ہمیں بھگانے کی بات کرتے ہو اسی بیان کو سن کر میں دکھی تھا۔



      واضح ہو کہ اتر پردیش پولیس کے مطابق لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور مجلس اتحاد المسلیمین (AIMIM) کے سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے دو افراد نے پہلے بڑی بھیڑ کی وجہ سے تین بار حملہ روک دیا تھا۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی کی کار کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ جمعرات کو میرٹھ سے دہلی واپس آرہے تھے، جس کے بعد پولیس نے سچن شرما اور شبھم کو گرفتار کرلیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے ابتدائی طور پر پولیس کو تسلی بخش جواب نہیں دیا، لیکن جب تفتیش کاروں نے انہیں بتایا کہ واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا ہے، تو سچن نے معذرت کی اور جو کچھ ہوا وہ بیان کیا۔ ایف آئی آر میں سچن کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ ایک بڑا سیاستدان بننا چاہتا تھا۔ اس کے الفاظ میں ’میں اپنے آپ کو سچا محب وطن سمجھتا ہوں۔ میں نے اویسی کی تقریروں کو قوم کے لیے نقصان دہ پایا۔ اسی لیے میں نے ان سے دشمنی پیدا کر لی تھی‘۔

      اس نے پولیس کو بتایا کہ اس نے اویسی کے دوروں پر نظر رکھنے کے لیے اے آئی ایم آئی ایم کے ڈاسنا چیئرمین سے رابطہ بھی کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق اس نے فیصلہ کیا کہ وہ مہم کے دورے کے دوران اویسی پر حملہ کریں گے۔ اس فیصلے کے بعد اس نے سہارنپور کے رہنے والے شبھم سے رابطہ کیا، جسے وہ کئی سال سے جانتا ہے۔ ایف آئی آر میں سچن کے حوالے سے پولیس کو بتایا گیا کہ میں نے انھیں فون کرنے کے بعد شبھم غازی آباد آیا اور ہم 28 جنوری کو ویو سٹی کے قریب ملے۔ شبھم اپنے دوست کے ساتھ رہ رہا تھا۔ ہم دونوں نے اویسی کو مارنے کا فیصلہ کیا اور صحیح وقت کا انتظار کرنے لگے،‘‘

      یہ دونوں افراد 30 جنوری کو غازی آباد کے شاہد نگر میں اویسی کے ایک عوامی اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ وہ اسی دن اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے لیکن بھیڑ کی وجہ سے انہوں نے اسے روک دیا، سچن نے پولیس کو بتایا۔ اس کے بعد دونوں اسے گولی مارنے کے ارادے سے جمعرات کو میرٹھ کے گولا کوان گئے۔ انہوں نے دوبارہ زیادہ ہجوم کی وجہ سے ایسا نہیں کیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: