உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آئی اے ایس افتخار الدین معاملے پر اویسی بولے، مذہب کی بنیاد پر کھلے عام ہراساں کیا جا رہا ہے

    Youtube Video

    اویسی نے لکھا کہ اترپردیش حکومت نے سینئر آئی اے ایس افتخار کے چھ سال پرانے ویڈیو کی تحقیقات کے لیے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ ویڈیو سیاق و سباق سے ہٹ کر لی گئی ہے اور اُس وقت کی ہے جب یہ حکومت اقتدار میں بھی نہیں تھی۔ یہ مذہب کی بنیاد پر کھلے عام ہراساں کرنا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      آئی اے ایس افتخار الدین کے معاملے میں ایس آئی ٹی کے ڈی جی ، سی بی سی آئی ڈی آج کانپورپہنچیں گے۔ جی ایل مینا کے شام تک کانپور پہنچنے کے امکانات ہیں۔ واضح ہو کہ افتخار الدین (senior IAS officer Mohammad Iftikharuddin) پر مذہبی تبلیغ و تشہیر کا الزام ہے۔ حکومت اتر پردیش کے نوٹس لینے کے بعد کاروائی شروع ہوئی تھی۔

      افتخار الدین کے خلاف بڑھائی گئی جانچ پر اقلیتی طبقے میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ سیاسی و سماجی تنظیموں کے لوگ مانتے ہیں کہ الیکشن کے پیش نظر اہم اور پڑھے لکھے مسلمانوں کے خلاف یوگی حکومت اس طرح کی کاروائی کررہی ہے۔کلیم الدین کے بعد اب افتخار الدین کو نیاہ دف بنایا جارہا ہے۔


      اس حوالےسے ایم آئی ایم صدر اسدالدین اویسی ( AIMIM president Asaduddin Owaisi) نے ٹویٹ کیا ہے۔ ا نہوں نے لکھا کہ اترپردیش حکومت نے سینئر آئی اے ایس افتخار کے چھ سال پرانے ویڈیو کی تحقیقات کے لیے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ ویڈیو سیاق و سباق سے ہٹ کر لی گئی ہے اور اُس وقت کی ہے جب یہ حکومت اقتدار میں بھی نہیں تھی۔ یہ مذہب کی بنیاد پر کھلے عام ہراساں کرنا ہے۔

      انہوں نے مزید لکھا کہ اگر پیرامیٹر یہ ہے کہ کسی بھی افسر کو مذہبی سرگرمیوں سے منسلک نہ کیا جائے تو دفاتر میں تمام مذہبی علامتوں، تصاویر کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔ اگر گھر میں محض عقیدے پر بحث کرنا جرم ہے تو عوامی مذہبی تقریب میں شریک ہونے والے کسی بھی افسر کو سزا دیں۔ آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟
      Published by:Sana Naeem
      First published: