உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP میں مسلمانوں کی حالت قابل رحم، اویسی کے بولتے ہی ٹوٹ پڑے مخالفین، جم کر توتو، میں میں

    UP میں مسلمانوں کی حالت قابل رحم، اویسی کے بولتے ہی ٹوٹ پڑے مخالفین، جم کر توتو، میں میں

    UP میں مسلمانوں کی حالت قابل رحم، اویسی کے بولتے ہی ٹوٹ پڑے مخالفین، جم کر توتو، میں میں

    Asaduddin Owaisi News : اترپردیش اسمبلی انتخابات(Uttar Pradesh News) سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) نے دعوی کیا ہے کہ اترپردیش میں مسلمانوں ( Muslims in Uttar Pradesh) کی حالت قابل رحم ہے اور اس کیلئے سبھی سیاسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں ۔

    • Share this:
      لکھنو : اترپردیش اسمبلی انتخابات(Uttar Pradesh News)  سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی  (Asaduddin Owaisi) نے دعوی کیا ہے کہ اترپردیش میں مسلمانوں ( Muslims in Uttar Pradesh) کی حالت قابل رحم ہے اور اس کیلئے سبھی سیاسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں ۔ اویسی (Asaduddin Owaisi News) نے لکھنو میں ایک پریس کانفرنس کرکے سبھی پارٹیوں پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں مسلمانوں کی قابل رحم حالت کیلئے سبھی سیاسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں ۔ اویسی کے اس بیان کے بعد سیاست تیز ہوگئی ہے اور سبھی پارٹیوں کے لیڈروں نے اویسی پر پلٹ وار کرتے ہوئے اویسی کو ہی کٹگھرے میں کھڑا کردیا ہے ۔

      اسد الدین اویسی نے ایک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم او بی سی سماج کا جو ڈیٹا سرکاری اعداد و شمار میں ہے ، وہ بھی ان کو نہیں مل رہا ہے ۔ ریاستی یونیورسیٹیوں میں جو کام کرنے والے ٹیچرس ہیں ، اس میں صرف تین فیصد کے قریب مسلمان ہیں ۔ یہ ڈیٹا بتاتا ہے کہ یوپی کے مسلمانوں سے اپیزمنٹ نہیں ہوا ہے ،  بلکہ ان کا استحصال ہوا ہے اور اس کیلئے ذمہ دار سبھی پارٹیاں ہیں ۔

      انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کا مقصد یہ تھا کہ سرکار کو پتہ چلے کہ 19 فیصدی آبادی والوں کی حقیقت کیا ہے ، پتہ چل سکے ۔ اسکول زیادہ کھولے جائیں ، بینک کھولے جائیں ، یوپی کے مسلمان تقریبا 51 فیصد باہر جاتے ہیں ، جن پر کوئی کام نہیں کرتا ۔ میں سیاست باتیں کرسکتا ہوں ، لیکن ڈیٹا کے ذریعہ سب بتا دیا ہے ۔ کسی بھی پارٹی کی سرکار رہی ہو کسی نے ان کیلئے کام نہیں کیا ۔ اویسی نے مزید کہا کہ اس رپورٹ کو ہم عوام کے سامنے پیش کریں گے ۔ یوپی کے مسلمانوں اور سیکولر لوگوں کے پاس یہ رپورٹ جائے گی اور وہ فیصلہ کریں کہ کون ان کا استعمال کررہا ہے اور کون ووٹ کٹوا ہے ۔

      دراصل 'مسلمز ان اترپردیش ڈیولپمنٹ سیکورٹی اینڈ انکلوزن' کے موضوع پر اسد الدین اویسی نے سبھی اسکالروں کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور ڈیٹا کے ذریعہ بتایا کہ اترپردیش میں مسلمانوں کی حالت سب سے زیادہ قابل رحم ہے ۔ اویسی نے دعوی کیا کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق یوپی میں مسلمانوں کی آبادی 38.48 ملین تھی اور تعلیم ، روزگار سمیت کسی بھی شعبہ میں مسلمانوں کی حالت قابل رحم بنی ہوئی ہے ۔

      اویسی کا بیان سامنے آتے ہی سبھی پارٹیوں کے لیڈروں نے اویسی پر ہی سوال کھڑا کرنا  شروع کر دیا۔ کانگریس نے کہا کہ اویسی کی وجہ سے ملک میں سیکولر حکومت نہیں بن پارہی ہے۔ وہیں سماج وادی پارٹی نے اتر پردیش میں مسلمانوں کی ابتر حالت کیلئے اویسی پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کانگریس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ جبکہ بی جے پی نے خود کو مسلمانوں کا خیر خواہ بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر کسی کو پی ایم آواس یوجنا کے تحت زیادہ سے زیادہ مکانات ملے ہیں تو وہ مسلمان ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: