உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایم آئی ایم صدر اسدالدین اویسی کابڑا بیان، سیاسی سیکولرزم نے مسلمانوں کو پہنچایا ہے نقصان

    Youtube Video

    ایم آئی ایم اسدالدین اویسی نے جنتر منتر پر لگائے گئے مسلم مخالف نعروں کی بھی سخت لفظوں میں مذمت کی ہے۔

    • Share this:

      دہلی میں ایم آئی ایم صدر اسدالدین اویسی ایک کتاب کے رسم اجرا میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نےبھارتی مسلمانوں کامستقبل کے عنوان کے تحت خطاب کیا۔جس میں انہوں نے سیاسی سیکولزرم کے نئے ٹرم کا ایجاد کیا۔ انہوں نے کہاکہ آئینی اور دستوری سیکولزم سے کوئی دقت نہیں ہے مگر سیاسی سیکولزم نے مسلمانوں کوکافی نقصان پہنچایاہے۔ سیاسی سیکولزم سے انفرادی فائدہ ہوسکتاہے لیکن اجتماعی نقصان بھی ہوتا ہے۔


      ایم آئی ایم اسدالدین اویسی نے جنتر منتر پر لگائے گئے مسلم مخالف نعروں کی بھی سخت لفظوں میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک کی دارلحکومت دہلی میں اگر اس طرح کے نعرے لگتے ہیں تو غوروفکر کرنے کامقام ہے۔
      غور طلب ہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر مسلم مخالف نعروں کا معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے بھی گزشتہ روز (پیر کے دن) اشونی اپادھیائے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ وہیں دوسری جانب بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے سمیت 6 افراد کو دہلی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔


      ملک کی راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر بھارت چھوڑو آندولن (Quit India Movement) کی سالگرہ پر تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ الزام لگے ہیں کہ پروگرام کے دوران متنازعہ نعرے بازی کی گئی اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے گئے۔ اس معاملے میں اب پروگرام کے آرگنائزر اور بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے سمیت 6 افراد کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ ڈی سی پی دیپک یادو کے مطابق، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اشونی اپادھیائے سمیت 5 لوگوں کو دہلی پولیس حراست میں لے کر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اطلاع کے مطابق، ان سبھی سے چانکیہ پوری تھانے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

      اطلاع کے مطابق، مسلم مخالف تقریر معاملے میں بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے کے علاوہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ان میں دیپک سنگھ، ونود شرما، دیپک ونیت کرانتی اور پریت سنگھ شامل ہیں۔ معاملے میں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے بھی گزشتہ روز (پیر کے دن) اشونی اپادھیائے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ اشونی اپادھیائے رات 3 بجے کے قریب کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن پہنچے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نعرے لگانے والوں کو نہیں جانتا ہوں۔ ویڈیو کی جانچ کی جائے اور صحیح پائے جانے پر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔

      دراصل، اس معاملے مین گزشتہ پیر کی شام کو ہی اشونی اپادھیائے کو کناٹ پلیس تھانے بلایا گیا تھا۔ دہلی پولیس اشونی اپادھیائے اور دیگر نامزد افراد کی گرفتاری کے لئے چھاپہ ماری بھی کر رہی تھی۔ مانا جارہا ہے کہ کسی بھی وقت سبھی کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: