ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نین تاراسہگل کے بعد اشوک باجپئی کا مودی سرکار پر تیکھا حملہ ، ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لوٹا نے کا اعلان

نئی دہلی: انگریزی کی مشہور مصنفہ نین تارا سہگل کے بعد اب ہندی کے ممتاز مصنف اشوک باجپئی نے کنڑ ادیب ایم ۔ ایم ۔ کلبرگی کے قتل اور ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اوران پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی کے خلاف احتجاج میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لوٹانے کا اعلان کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 07, 2015 07:03 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نین تاراسہگل کے بعد اشوک باجپئی کا مودی سرکار پر تیکھا حملہ ، ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لوٹا نے کا اعلان
نئی دہلی: انگریزی کی مشہور مصنفہ نین تارا سہگل کے بعد اب ہندی کے ممتاز مصنف اشوک باجپئی نے کنڑ ادیب ایم ۔ ایم ۔ کلبرگی کے قتل اور ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اوران پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی کے خلاف احتجاج میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لوٹانے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: انگریزی کی مشہور مصنفہ نین تارا سہگل کے بعد اب ہندی کے ممتاز مصنف اشوک باجپئی نے کنڑ ادیب ایم ۔ ایم ۔ کلبرگی کے قتل اور ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اوران پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی کے خلاف احتجاج میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لوٹانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے کلبرگی کے قتل کے خلاف چھ کنڑ ادیبوں نے ایوارڈ لوٹانے کا اعلان کیا تھا اور ہندی کے مشہور افسانہ نگار ادے پرکاش نے بھی پچھلے دنوں اکیڈمی ایوارڈ لوٹادیا تھا۔


مسٹر باجپئی نے کہا کہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں ملک میں فرقہ پرستی اور فسطائیت میں اضافہ سے وہ فکر مند ہیں۔ ادیبوں اور قلم کاروں کو اپنا احتجاج درج کرانے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نین تارا سہگل جیسی بزرگ اور باوقار مصنفہ کے ذریعہ اکیڈمی ایوارڈ لوٹانے کے بعد سبھی مصنفوں اور قلم کاروں کو متحد ہوکر احتجاج کرنا چاہئے۔


مسٹر باجپئی نے بتایا کہ انہیں کئی ادیبوں نے فون کرکے مسٹر مودی کی خاموشی پر حیرت ظاہر کی ہے اور ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ پر تشویش ظاہر کی ہے اور ان ادیبوں نے بھی ایوارڈ لوٹانے کی بات کہی ہے۔


مسٹر باجپئی نے جو للت کلا اکیڈمی کے صدر اور مہاتماگاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں، کہا کہ وہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں فرقہ وارانہ واقعات کے اضافہ سے کافی فکر مند ہیں ۔ ایک طرف کلبرگی جیسے مصنف کا قتل ہورہا ہے تو دوسری طرف گائے کے گوشت کی افواہ پر اخلاق کی جان لی جارہی ہےاور وزیراعظم ایسے معاملوں میں چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ان کے وزرا روزانہ اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں لیکن وزیراعظم کچھ بولتے تک نہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ادیب اور دانشور اپنا موقف طے کریں ۔

First published: Oct 07, 2015 07:02 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading