உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وشو ہندو پریشد کے لیڈر اشوک سنگھل کا انتقال ، آخری روسومات نگم بودھ گھاٹ پر کل ، پی ایم کا اظہار افسوس

    نئی دہلی۔ وشو ہندو پریشد کے سرپرست اور بین الاقوامی ایگزیکٹو چیئرمین اشوک سنگھل اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

    نئی دہلی۔ وشو ہندو پریشد کے سرپرست اور بین الاقوامی ایگزیکٹو چیئرمین اشوک سنگھل اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

    نئی دہلی۔ وشو ہندو پریشد کے سرپرست اور بین الاقوامی ایگزیکٹو چیئرمین اشوک سنگھل اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی:وشوہندوپریشد (وی ایچ پی) کے سرپرست اشوک سنگھل کا آج گڑگاؤں کے میدانتا میڈیسٹی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ 89 برس کے تھے۔


      وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری چنپت رائے کے مطابق مسٹر سنگھل کا دوپہر تقریباً سوا دو بجے انتقال ہوگیا۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے علیل تھے انہیں 14؍ نومبر کو سانس میں تکلیف کی وجہ سے الہ آباد سے لاکر میدانتا میڈیسی اسپتال گڑگاؤں میں داخل کرایاگیاتھا اور انہیں انتہائی نگہداشت والی یونٹ (آئی سی یو) میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیاتھا۔


      سنگھل کی آخری رسومات کل شام چار بجے نگم بودھ گھاٹ پر انجام دی جائیں گی۔ مسٹر سنگھل کا جسدخاکی آج رات راما کرشنا پورم میں واقع وشو ہندو پریشد کے دفتر لایا جائے گا اور کچھ دیر بعد جھنڈیوالان میں آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر کیشو کنج میں آخری دیدار کے لئے لےجایا جائے گا۔ کیشو کنج سے کل دوپہر دو بجے ان کی ارتھی روانہ ہوگی اور شام چار بجے نگم بودھ گھاٹ پر آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔


      بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن اڈوانی ان کی خیریت دریافت کرنے آج ہی اسپتال پہنچے تھے۔ ان کے علاوہ سچدانند مہاراج اور کئی دیگر مذہبی رہنما بھی عبادت کے لئے اسپتال آئے تھے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، بی جے پی صدر امت شاہ، مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا ، ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر، یوگ آچاریہ رام دیو، اور وی ایچ پی کے بین الاقوامی کوآرڈینٹر پروین بھائی توگڑیا سمیت وی ایچ پی کے متعدد عہدیداروں نے پچھلے دنوں مسٹر سنگھل کی عیادت کی تھی۔


      قابل ذکر ہے کہ اشوک سنگھل کو رام جنم بھومی تحریک کے قائدکے طور پر یاد کیا جائے گا۔ تقریباً 20 برس تک وشوہندوپریشد کے بین الاقوامی کاگزار صدر کی حیثیت سے کام کرنے والے مسٹر سنگھ 15 ستمبر 1926 کو پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1950 میں بنارس ہندویونیورسٹی سے مٹلیریجکل انجینئرنگ میں ڈگری لی اور اس کے بعد وہ راشٹریہ سویم سیوک (آر ایس ایس) کے کل وقتی پرچارک بن گئے جس سے وہ 1942 میں منسلک ہوئے تھے۔


      اترپردیش میں مختلف مقامات پر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے بعد وہ دہلی اور ہریانہ کے پرانت پرچارک بنے۔ اس کے بعد انہیں وشوہندوپریشد کا جوائنٹ جنرل سکریٹری نامزد کیاگیا اور 1984 میں وہ اس کے جنرل سکریٹری بن گئے۔


      مسٹر سنگھل نے اپنی تنظیمی اور تقریری صلاحیتوں اور قائدانہ اہلیتوں کی بدولت جلد ہی اپنا مقام بنالیا اور چوٹی کے لیڈروں میں شمار ہونے لگے۔ قومی اور بین الاقوامی ہندو تنظیمو ں میں انہیں نہایت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ انہوں نے وشوہندوپریشد کو ایک بین الاقوام تنظیم بنانے میں نمایاں رول ادا کیا۔


      تحریک کے آغاز کی ان کی کوششوں کی بدولت انہیں سیکڑوں سادھوسنتوں اور دیگرمعزز شخصیتوں کی حمایت حاصل ہوئی ۔ وہ 1984 میں پہلی وی ایچ پی دھرم سنسد کے کلیدی تنظیم تھے اور بعد میں رام جنم بھومی تحریک کے اصل معمار بنے۔


      انہیں کارگزار صدر کی ذمہ داریاں دی گئیں جنہیں وہ 2011 تک انجام دیتے رہے اورخرابی صحت کی بنا پر ہی اس سے دست بردار ہوئے۔


      وزیر اعظم کا اظہار افسوس


      وزیر اعظم نریندر مودی نےاشوک سنگھل کی موت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ اشوک سنگھل کی موت ان کے لئے گہرا ذاتی صدمہ ہے۔وہ اپنے آپ میں ایک ادارہ تھے جن کی پوری زندگی ملک کی خدمت کے لئے وقف تھی۔

      First published: