ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عدم رواداری کے معاملے پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے والے واجپئی ایوارڈ واپس نہیں لیں گے

نئی دہلی۔ عدم رواداری کے معاملے پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے والے معروف شاعر اور ادیب اشوک واجپئی نے کہاکہ اگر اکادمی ان کے واپس کئے گئے ایوارڈ کو پھر سے دیتی ہے تو وہ اسے کسی بھی حالت میں قبول نہیں کریں گے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 23, 2016 12:57 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عدم رواداری کے معاملے پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے والے واجپئی ایوارڈ واپس نہیں لیں گے
نئی دہلی۔ عدم رواداری کے معاملے پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے والے معروف شاعر اور ادیب اشوک واجپئی نے کہاکہ اگر اکادمی ان کے واپس کئے گئے ایوارڈ کو پھر سے دیتی ہے تو وہ اسے کسی بھی حالت میں قبول نہیں کریں گے۔

نئی دہلی۔ عدم رواداری کے معاملے پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے والے معروف شاعر اور ادیب اشوک واجپئی نے کہاکہ اگر اکادمی ان کے واپس کئے گئے ایوارڈ کو پھر سے دیتی ہے تو وہ اسے کسی بھی حالت میں قبول نہیں کریں گے۔ مسٹر واجپئی نے یہ بیان آج اس وقت دیا جب انگریزی کی مشہور مصنفہ نین تارا سہگل اور راجستھانی اور ہندی کے مصنف نند بھاردواج نے اپنا واپس کیا گیا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ پھر سے لے لیا ہے۔ خیال رہے کہ محترمہ سہگل نے جب یہ ایوارڈ واپس کیا تھا تو مسٹر واجپئی نے اس کے اگلے دن ہی اپنا ایوارڈ واپس کرنے کااعلان کیا تھا۔


للت کلا اکادمی کے سابق صدر اور مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مسٹر واجپئی نے یو این آئی سے کہاکہ اکادمی کی جانب سے ایک خط میرے پاس بھی آیا ہے جس میں ایوارڈ واپس لینے کی بات کہی گئی ہے لیکن ایوارڈ واپس لینے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔ اکادمی نے ایوارڈ واپس کرنے والے ادبا کو مشکل میں ڈالنے کے لئے ہی اس طرح کے خط بھیجے ہیں۔ مسٹر واجپئی نے کہاکہ کسی بھی ادارے میں ایسی کوئی پالیسی نہیں ہوتی ہے کہ مصنف ایوارڈ واپس کرے۔ اس لئے اکادمی کی یہ دلیل مضحکہ خیز ہے کہ وہ ادبا کے واپس کئے گئے ایوارڈ کو نہیں لے سکتی۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی ادارے کے آئین اور ضابطوں میں یہ تھوڑی لکھا ہے کہ وہ ایوارڈ کی واپس کی گئی رقم قبول نہیں کرے گی۔


گزشتہ دنوں اپنا 75واں یوم پیدائش منانے والے مسٹر واجپئی نے کہاکہ خواہ ساہتیہ اکادمی ہو یا حکومت سب میں غیر حساسیت ہے اور دباؤ میں آنے کے بعد ہی وہ کچھ کرتی ہیں اسی لئے تو کلبرگی کے قتل کے ایک مہینے بعد اس نے مذمتی قرارداد منظور کی جب پورے ملک میں اس واقعہ پروسیع پیمانہ پر مخالفت ہوئی اور وزیراعظم نے بھی ایک دلت طالب علم کی خودکشی کے اتنے دنوں بعد خاموشی اس وقت توڑی جب ملک کے شہروں میں طلبا نے مظاہرے کئے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ عدم رواداری کا معاملہ اب بھی برقرار ہے اورروز افزوں ہونے والے واقعات میں اسے دیکھا جاسکتا ہے۔


خیال رہے کہ معروف فلمساز کرن جوہر نے بھی کل جے پور لٹریچر فیسٹول میں عدم رواداری کا معاملہ اٹھاکر ایک بار پھر بحث کو تیز کردیا ہے۔مسٹر واجپئی حیدرآباد کی سنٹرل یونیورسٹی کے اسکالر روہت شرما کی خودکشی کی مخالفت میں بھی اپنی ڈی لٹ کا اعزاز واپس کرنے کا اعلان کرچکے ہیں جو انہیں 2013میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی نے دی تھی۔

First published: Jan 23, 2016 12:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading