ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عدم رواداری کے چیلنج کے پیش نظر ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے:واجپئی

نئی دہلی۔ ہندی کے نامور ادیب اشوک واجپئی نے کہا ہے کہ آج ہندوستان کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر وقت چوکنا رہیں ، ارباب حل و عقد سے سوالات پوچھنے سے گریز نہ کریں اور متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش بھی کرتے رہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 21, 2015 07:38 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عدم رواداری کے چیلنج کے پیش نظر ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے:واجپئی
نئی دہلی۔ ہندی کے نامور ادیب اشوک واجپئی نے کہا ہے کہ آج ہندوستان کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر وقت چوکنا رہیں ، ارباب حل و عقد سے سوالات پوچھنے سے گریز نہ کریں اور متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش بھی کرتے رہیں۔

نئی دہلی۔  ہندی کے نامور ادیب اشوک واجپئی نے کہا ہے کہ آج ہندوستان کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر وقت چوکنا رہیں ، ارباب حل و عقد سے سوالات پوچھنے سے گریز نہ کریں اور متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش بھی کرتے  رہیں۔


آج یہاں جامعہ کلکٹیو کے زیر اہتمام " گفتگو" کے عنوان سے منعقد ہ ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر واجپئی نے کہا کہ ہندوستان آج جن چیلنجز سے گذر رہا ہے اس کی مثال ماضی میں کم ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے تکثیری سماج کو شدید خطرہ لاحق ہے کیوں کہ نفرت پھیلانے والی طاقتیں پہلے سے زیادہ سرگرم ہوگئی ہیں اور خود کو زیادہ پرجوش اور طاقت ور سمجھ رہی ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی صف بندی ان کے حق میں ہے۔


ملک میں عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف بطور احتجاج ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنے والے اولین ادیبوں میں سے ایک اشوک واجپئی نے کہا کہ موجودہ صورت حال ایک برے خواب کی مانند لگتا ہے لیکن ایسے حالات میں بھی ہمیں اچھے خواب ضرور دیکھنے چاہئیں کیوں کہ جب تک خواب نہ دیکھا جائے ، اس وقت تک اس کی تعبیر تلاش کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں کئی چیزوں کو الگ ڈھنگ سے سوچنے کے ساتھ ساتھ متبادل کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آج ایسا ماحول بنا دیاگیا ہے کہ اختلاف کرنے کا مطلب ملک دشمنی ہوگیا ہے اور اگر آپ حکومت کے خلاف کوئی بات کہتے ہیں تو اسے ملک مخالف قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ حکومت کو ملک کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کتنی عجب بات ہے کہ بیرونی ملکوں میں جاکر ہم ہندوستان کی تکثریت کی خوبی پر فخر کرتے ہیں لیکن ملک میں اسی تکثریت کو برباد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں صرف ایک مذہب، ایک زبان، ایک طرح کے کھانے کا لوگوں کو پابند نہیں بنایا جاسکتا اور ایسا ہندوستان کی تاریخ سے بھی ثابت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں چار ہزار سے زائد سماجی فرقے ، آٹھ مذاہب، 700زبانیں ہیں اور ہم صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک تہذیب ہیں۔


مسٹر واجپئی نے کہا کہ ہندوستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کے مذاہب نے سماجی اصلاح کا سلسلہ بند کردیا ہے۔ دوسری طرف علم و دانش کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ ہندوستان نالج پروڈکشن میں پچھڑ گیا ہے۔ کالج اور یونیورسٹیوں میں علم کے بجائے صرف اطلاعات فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ ہم نے حکمت و دانشوری کی روایت کو بھلا دیا ہے اور ہر شخص دولت حاصل کرنے کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔اس کا سب سے زیادہ شکار مڈل کلاس طبقہ ہے۔ سلیکون ویلی میں عہدہ حاصل کرنا ہی اس کی تمام تر کوششوں کا محور بن گیا ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی اپنی مادری زبان سے دور ہوتے جارہے ہیں اور علم حاصل کرنے کے بجائے صرف انفارمیشن کے حصول کو ہی اصل مقصد سمجھ رکھا ہے۔


ہندی کے عظیم ادیب نے کہا کہ آج ہندوستانی زبانوں سے فارسی اور عربی کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوال ہے کہ آخر والمیکی کی رامائن کو کس طرح تبدیل کیا جاسکے گا جس میں ایک ہزار سے زائد عربی اور فارسی کے الفاظ ہیں۔ مسٹر واجپئی نے کہا کہ حالات گوکہ پریشان کن ہیں تاہم ہمیں متبادل کی تلاش ضرور کرنی چاہئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں متبادل کیا ہوسکتا ہے تو انہوں نے تسلیم کیا کہ اس کا کوئی واضح خاکہ ان کے سامنے موجود نہیں ہے البتہ اس طرح کی کسی بھی پہل میں آزادی، مساوات اور انصاف کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہئے اور خود کو اقتدار کی سیاست سے الگ رکھ کر بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے۔


سماجی کارکن اور منصوبہ بندی کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید کی رہائش گاہ کے لان پر منعقد اس تقریب سے بی بی سی ہندی سروس سے وابستہ اقبال احمد اور انہد کی روح رواں شبنم ہاشمی نے بھی خطاب کیا۔ اس پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرا د بڑی تعداد میں موجود تھے۔

First published: Nov 21, 2015 07:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading