ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندستان میں عدم برداشت کا مسئلہ اب بھی برقرار: اشوک واجپئی

نئی دہلی۔ ملک میں عدم برداشت بڑھنے کا الزام لگا کرساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنے والے معروف شاعر اور جانے مانے ثقافتی پیروکار اور ادیب اشوک واجپئی کا کہنا ہے کہ ایوارڈ واپسی کا معاملہ اب بھلے ہی نہ ہو رہا ہو مگر معاشرے میں عدم برداشت کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے کیونکہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ آئے دن اشتعال انگیز بیان دیے جا رہے ہیں اور ماحول کو زہریلا بنایا جا رہا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 17, 2016 08:18 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہندستان میں عدم برداشت کا مسئلہ اب بھی برقرار: اشوک واجپئی
نئی دہلی۔ ملک میں عدم برداشت بڑھنے کا الزام لگا کرساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنے والے معروف شاعر اور جانے مانے ثقافتی پیروکار اور ادیب اشوک واجپئی کا کہنا ہے کہ ایوارڈ واپسی کا معاملہ اب بھلے ہی نہ ہو رہا ہو مگر معاشرے میں عدم برداشت کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے کیونکہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ آئے دن اشتعال انگیز بیان دیے جا رہے ہیں اور ماحول کو زہریلا بنایا جا رہا ہے۔

نئی دہلی۔  ملک میں عدم برداشت بڑھنے کا الزام لگا کرساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنے والے معروف شاعر اور جانے مانے ثقافتی پیروکار اور ادیب اشوک واجپئی کا کہنا ہے کہ ایوارڈ واپسی کا معاملہ اب بھلے ہی نہ ہو رہا ہو مگر معاشرے میں عدم برداشت کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے کیونکہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ آئے دن اشتعال انگیز بیان دیے جا رہے ہیں اور ماحول کو زہریلا بنایا جا رہا ہے۔ مسٹر واجپئی نے اپنی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر يو این آئی کے ساتھ ہوئی بات چیت کے دوران یہ خیال ظاہر کیا۔ کل رات مسٹر واجپئی کی سالگرہ پر ان کا 15 ویں شاعری کا مجموعہ 'نکشترہین سمے میں‘‘ اور ان کی تنقیدی کتاب ’’تین دروازے‘‘ کا اجرا بھی کیا گیا۔ اس موقع پر دہلی یونیورسٹی میں ہندی کے پروفیسر اپوروآنند نے ان سے ادب اور سمے پر بات چیت بھی کی۔ مسٹر واجپئی کے 75 ویں سالگرہ پر موسیقی اور رقص کا تین روزہ پروگرام بھی آج سے منعقد ہو رہا ہے، جس میں جانی مانی رقاصہ اور دھرپد گلوکار حصہ لے رہے ہیں۔


للت کلا اکیدمی اکیڈمی کےچیرمین اور مہاتما گاندھی بین الاقوامی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مسٹر واجپئی نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ایوارڈ کی واپسی کے واقعات اب بند ہو گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں عدم برداشت کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ اب بھی جاری ہے، روز اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں اور ان کی خبریں اخبارات میں آ رہی ہیں۔ کبھی کوئی کسی وجہ سے گرفتار کیا جا رہا ہے تو کہیں بیف کا مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی عامر خان کے پیچھے پڑے ہیں اور اشتعال انگیز بیان دیے جا رہے ہیں۔


مسٹر واجپئی نے کہا،’’میڈیا نے عدم برداشت کے مسئلے کو وسیع تناظر میں پیش نہیں کیا۔ آپ دیکھئے سائنس کانگریس میں کتنی غیر سائنسی باتیں ہوئی۔ نوبل انعام یافتہ سائنس داں رام کرشن کو کہنا پڑا کہ یہ سائنس کانگریس ایک سرکس ہے اور وہ اس میں اب کبھی نہیں آئیں گے۔ سائنس کانگریس میں گورنر بھی عجیب غریب بیان دے رہے ہیں، صدر کو کہنا پڑا کہ گورنر آئین کے دائرے میں کام کریں۔ پہلے بھی صدر جمہوریہ عدم برداشت کے معاملے پر کئی بار  بول چکے ہیں۔ ادبی اور ثقاقتی اداروں پر کس طرح کے لوگ بٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘

مسٹر واجپئی نے کہا، ’’ نیشنل بک ٹرسٹ کا اداره آپ کے سامنے ہے۔ ہندوستانی تاریخ تحقیقی کونسل میں کس طرح کے لوگوں کو صدر بنایا گیا تاہم عہدے کے بلا معاوضہ کی وجہ انهوں نے اسے چھوڑ دیا۔ نہرو میموری میوزیم کا حال آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں رام مندر پر سیمنار ہو رہے ہیں۔ طالب علموں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پرپولرائزیشن کی کوششیں کی جا رہیں ہیں۔


انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی درجے کو واپس لینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کل ملا کر ملک میں ماحول کو کتنا زہریلا بنایا جا رہا ہے اس لئے عدم برداشت کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ ایوارڈ کی واپسی ان واقعات کے خلاف ایک طرح کا اظہار تھا۔ مصنف، آرٹسٹ وقت وقت پر مختلف ذرائع سے لڑائی لڑتے ہیں۔ ہماری جنگ لمبی جنگ ہے۔ ایوارڈ واپس کرنا تو اس جنگ کی علامت اور اس کا ایک حصہ تھا‘‘۔

First published: Jan 17, 2016 08:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading