உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سندیپ کمار کے دفاع میں اترے آشوتوش ، گاندھی ، نہرو اور واجپئی پر اٹھائے سوال

    عام آدمی پارٹی کے ترجمان آشوتوش نے فحش سی ڈی تنازع میں پھنسے دہلی حکومت کے خواتین کی ترقی اور بہبود اطفال کے سابق وزیر سندیپ کمار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندیپ نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے

    عام آدمی پارٹی کے ترجمان آشوتوش نے فحش سی ڈی تنازع میں پھنسے دہلی حکومت کے خواتین کی ترقی اور بہبود اطفال کے سابق وزیر سندیپ کمار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندیپ نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ترجمان آشوتوش نے فحش سی ڈی تنازع میں پھنسے دہلی حکومت کے خواتین کی ترقی اور بہبود اطفال کے سابق وزیر سندیپ کمار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندیپ نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے، مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے بھی سماجی اور اخلاقی دائرے سے باہر جاکر دوسری عورتوں سے تعلقات رہے ہیں۔
      مسٹر آشوتوش نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ اگر سندیپ نے کسی دوسری خاتون کے ساتھ اس کی رضامندی سے تعلقات قائم کئے ہیں ، تو اس میں غلط کیا ہے۔ انهوں نے کوئی زور زبردستی نہیں کی ہے اور نہ ہی اس خاتون نے سندیپ کے خاندان کے کسی رکن یا پولیس سے اس کی شکایت کی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ سندیپ نے کسی کام کے بدلے میں عورت پر ایسا کرنے کا دباؤ ڈالا ہو۔ جب ایسی کوئی بات نہیں ہے اور تعلقات اتفاق رائے سےقائم ہوئے ہیں ، تو پھر سندیپ کے کردار پر سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی مثالیں بھری پڑی ہیں ، جن میں کئی جانی مانی ہستیوں کے دیگر خواتین سے مبینہ تعلق رہے یا پھر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔
      عام آدمی پارٹی لیڈر نے اس سلسلے میں مسٹر نہرو اور ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اور گاندھی جی اور رویندر ناتھ ٹیگور کے دور کی رشتہ دار سرلا چودھري کے درمیان رشتوں کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نےنهروجي اور ایڈوینا کے درمیان گہرے لگاؤ ​​کے چرچے ان دنوں عام تھے، ساری دنیا اس سے واقف تھی۔ ایڈوینا کے علاوہ بھی نہرو جی کے اپنی کئی ساتھی خواتین کے ساتھ تعلقات کی خوب خبریں چلا کرتی تھیں، تب تو کسی نے اس پر سوال نہیں اٹھایا۔ نہ ہی ان رشتوں کی وجہ سے ان کا سیاسی کیریئر متاثر ہوا۔ انهوں نے کہا کہ گاندھی جی کے سرلا چودھری کے ساتھ تعلقات سے ان کی بیوی کستوربا بہت پریشان رہتی تھیں۔ مسٹر آشوتوش نے کہا کہ مسٹر واجپئی کے بھی ایک عورت کے ساتھ تعلقات کے چرچے ہیں۔
      First published: