ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بالآخر آصف اقبال تانہا، دیونگنا کلیتا اور نتاشا نروال تہاڑ جیل سے رہا

کڑکڑڈوما عدالت نے دہلی پولس کی عرضی خارج کی تھی، پولیس کی ملزمان کی فوری ریلیز روکنے کی ساری کوششیں ہوئی ناکام ، ضمانت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں معاملہ زیرالتوا ہے جس پر کل سماعت ہو سکتی ہے۔

  • Share this:
بالآخر آصف اقبال تانہا، دیونگنا کلیتا اور نتاشا نروال تہاڑ جیل سے رہا
کڑکڑڈوما عدالت نے دہلی پولس کی عرضی خارج کی تھی، پولیس کی ملزمان کی فوری ریلیز روکنے کی ساری کوششیں ہوئی ناکام ، ضمانت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں معاملہ زیرالتوا ہے جس پر کل سماعت ہو سکتی ہے۔

کڑکڑڈوما ٹرائل کورٹ کے ذریعے جے این یو طلباء دیوانگنا کلیتا، نتاشا نروال، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم فلم آصف اقبال تانھا کی فوری رہائی پر دہلی پولیس اور تہاڑ جیل انتظامیہ کو عملدرآمد کرنا پڑا ہے اور قانونی داؤ پیچ کے ساتھ ساتھ تکنیکی بنیاد پر کھڑی کی گئی تمام رکاوٹوں کے باوجود تینوں ملزمان ان جیل سے رہا ہو کر باہر آ گئے ہیں۔ جیل سے رہا ہونے پر موجود حمایتیوں اور عزیز و اقارب کی جانب سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی بھی کی گئی۔ دراصل کڑکڑڈوما عدالت کی جانب سے حکم صادر کیے جانے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ پہنچی تھی تاہم دہلی پولیس کو راحت نہیں ملی۔جس کے بعد بعد ملزمان کی رہائی پر عملدرآمد کرنا پڑا ۔حالانکہ ضمانت کے خلاف دہلی پولیس کی عرضی پر کل سپریم کورٹ میں سماعت ہو سکتی ہے


ٹرائل کورٹ کڑکڑ ڈراما سے نہیں ملی تھی دہلی پولیس کو راحت

دہلی کی کڑکڑ دوما عدالت نے دہلی پولیس کی اس عرضی کو پورے طور سے خارج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری رہائی کا حکم دیا جس میں ملزمان کے کی بڑا زمانت پیش کرنے والے افراد کے پتے اور دوسرے کاغذات کی شناخت کی کارروائی پوری کرنے کے لیے تین سے چار دن کا کا وقت طلب کیا گیا تھا آج عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے راحت دینے سے انکار کردیا حالانکہ دہلی پولیس کو کو عدالت کے فیصلے کا بخوبی اندازہ تھا یہی وجہ تھی کہ فیصلہ آنے سے قبل ہی دہلی ہائی کورٹ میں دہلی پولیس نے کڑکڑ ڈوما عدالت کے فیصلے کے خلاف عرضی داخل کر دی تھی ۔ لیکن ابھی تک ہائی کورٹ میں اس معاملے پر سنوائی نہیں ہوئی ہے


کل ہو سکتی ہے دہلی پولیس کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت
دہلی پولیس نے نے ہائی کورٹ کے ذریعے اے ملزمان کو دی گئی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی جس پر کل سپریم کورٹ سماعت کر سکتا ہے فی الحال معاملے کی سماعت زیرالتوا ہے۔

غور طلب ہے کہ دہلی پولیس یواے پی اے کے تحت جیلوں میں بند نتاشا نروال ، آصف اقبال تانہا اور دیونگنا کلیتا کو دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ دی گئی ضمانت پر رہائی کو روکنے کے لئے کمر کس چکی تھی اس سلسلہ میں جہاں پولیس نے سپریم کورٹ میں ایس ایل پی دائر کی تو وہیں کڑکڑڈوما کورٹ سے ضمانتی افراد کے ویریفکیشن کے لئے تین دنوں کاوقت مانگا تھا چنانچہ ملزمان کی رہائی پر تذبذب بنا ہوا تھا دراصل دہلی فساد کی سازش معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے یواے پی اے کے تحت گرفتار اور جیل میں بند نتاشا نروال ، آصف اقبال تانہا اور دیونگنا کلیتا کو ضمانت دے دی تھی تاہم اب اس معاملے میں دہلی پولیس ضمانت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہونچ گئی ہے ۔

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں ایل ایل پی دائر کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ سے ازسر نو غور کرنے کی گزارش کی ہے تووہیں کڑکڑڈوما کورٹ میں پولیس نے ضمانت دینے والے افراد کی شناخت کے لئے وقت مانگا جس پر عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا اور وقت دے دیا دراصل تینوں افراد کے ضمانتی افراد الگ الگ علاقوں سے ہیں یہاں تک کے لئے دیونگنا کلیتا کے ضمانتی جھارکھنڈ سے ہیں اسلئے پولیس نے وقت مانگا ہے ان تین دنوں کے دوران شناخت کا کام پورا کرلیا جائے گا۔تاہم اس دوران سپریم کورٹ اس معاملے میں سماعت کرکے حکم جاری کرسکتا ہے ۔غورطلب ہے کہ کل ہی ان تینوں ملزمان کو دہلی ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے ضمانت دے دی تھی کہ مخالفت اور احتجاج کرنا ملک مخالف سرگرمی نہیں ہے ۔دوسری جانب سے معاملے میں آصف اقبال کے والدین کا بیان سامنے آیا ہے جس میں عدالت کے ذریعہ شناخت کے لئے وقت دیے جانے اور ضمانت پر رہائی ملتوی ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔

آصف اقبال کے والد نے کہا ہے کہ گزشتہ سال سے آصف جیل میں تھا اس کو ضمانت مل گئی اس سے ہمیں کافی خوشی ہوئی تھی ۔ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ عدالت نے انصاف کیا ہے ہمیں امید تھی کہ ہمارے حق میں فیصلہ آئے گا کیونکہ میرا بیٹا قصور وار نہیں تھا ۔آصف اقبال کی ماں جہاں آراں نے کہا کہ ضمانت ملنے میں دیری ہوگئی اتنی دیری نہیں ہونا چاہئے تھا جہاں آرا نے کہا کہ میرے بیٹے کو ضمانت ملے 35سے زیادہ گھنٹے ہوچکے ہیں لیکن ابھی اس کو نہیں چھوڑا گیا ہے میری گزارش ہے کہ اس کو جلد سے جلد چھوڑ ا جائے ۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 17, 2021 08:17 PM IST