ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام شہریت معاملہ: مولانا ارشد مدنی کوعدالت کے ذریعہ متاثرین کو راحت اورانصاف ملنے کی امید  

عدالت نے یہ آرڈرجاری کیا کہ اسٹیٹ کوآرڈینٹرنےان پانچ دستاویزات سے متعلق جو رپورٹ پیش کی ہے یہ رپورٹ تمام فریقین کومہیا کرائی جائے اورتمام فریقین کواس پر 30 اکتوبرتک جواب داخل کرنے کا حکم بھی دیا۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آسام شہریت معاملہ: مولانا ارشد مدنی کوعدالت کے ذریعہ متاثرین کو راحت اورانصاف ملنے کی امید   
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو۔

نئی دہلی:  آسام شہریت کے معاملوں میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس ایف آرنریمن کی دورکنی بینچ میں سماعت کا آغاز ہوا تو جمعیۃعلماء ہند اورآمسو کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید، سینئر ایڈوکیٹ اندراجے سنگھ اوروکیل آن ریکارڈ فضیل ایوبی پیروی کے لئے پیش ہوئے۔





















کارروائی شروع ہوئی تو سب سے پہلے آج اسٹیٹ کوآرڈینیٹر پرتیک ہزیلا نے کورٹ کے سامنے دورپورٹیں پیش کیں۔ ایک رپورٹ کانفیڈینشل تھی جبکہ دوسری رپورٹ میں ان پانچ دستاویزات کے تعلق سے اپنا موقف پیش کیا، جنہیں اب آبجکشن اورکلیم کے عمل سے نکال دیا گیا ہے۔

عدالت  نے یہ آرڈرجاری کیا کہ اسٹیٹ کوآرڈینٹرنے ان پانچ دستاویزات سے متعلق جو رپورٹ پیش کی ہے یہ رپورٹ تمام فریقین کومہیا کرائی جائے اورتمام فریقین کواس پر 30 اکتوبرتک جواب داخل کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یکم نومبرکو ان پانچ دستاویزات کے ساتھ  ساتھ  آسام کے دوسرے تمام معاملوں پر پورے دن بحث ہوگی۔


جمعیۃعلماء ہند کے وکیل کپل سبل کا کہنا تھا کہ جو موقف بھارت سرکارکا ہے، وہی ہمارا بھی ہے اور ہم نے 17 ستمبر کے حلف نامہ میں بھی اپنے اس موقف کاذکرکیا ہے، مگر یہ بات بلاشبہ حیرت انگیز ہے کہ ان پانچ دستاویزات کی مخالفت  پرتیک ہزیلاکررہے ہیں، جنہیں سپریم کورٹ نے آسام میں اپنا اسٹیٹ کوآڈینٹرمقررکررکھا ہے۔ ایک طرح سے ان کی حیثیت این آرسی کی تیاری میں ایک نگراں کی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ نکالے گئے پانچ دستاویزات اورشہریت سے جڑے دوسرے معاملوں پربحث کے لئے فاضل عدالت نے یکم نومبرکا پورادن مخصوص کردیا ہے۔ اس سے اس بات کا صاف اظہارہوتا ہے کہ عدالت اس معاملے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ ہے اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس کے کوآرڈینیٹرکوپاورپوائنٹ پریزنٹیشن پیش کرنے کوکہا ہے،۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ عدالت کا جو فیصلہ آئے گا، اس سے متاثرین کوراحت ملے گی اورانہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کی راہ آسان ہوجائے گی انشاء اللہ، اس لئے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آبجکشن اورکلیم کے عمل میں پوری تیاری سے ضروری کاغذات کے ساتھ اپنی درخواستیں پر کریں اوراگراس سلسلہ میں کوئی دقت پیش آتی ہے توجمعیۃعلماء ہند کے ان وکلاء سے مددحاصل کریں جو این آرسی کے تمام مراکز پر موجودرہتے ہیں اور بلالحاظ مذہب وملت سب کو اپنی خدمات مفت فراہم کرتے ہیں ۔
























First published: Oct 23, 2018 08:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading