ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام : اب ایک اور مسلم ریٹائرڈ فوجی جوان کو بتایا گیا بنگلہ دیشی ، ہندوستانی شہریت سے متعلق مانگے گئے ثبوت

دو ماہ سے بھی کم عرصہ کے بعد اب ایک اور مسلم فوجی جوان کو آسام پولیس کے ذریعہ بنگلہ دیشی قرار دیا گیا ۔

  • Share this:
آسام : اب ایک اور مسلم ریٹائرڈ فوجی جوان کو بتایا گیا بنگلہ دیشی ، ہندوستانی شہریت سے متعلق مانگے گئے ثبوت
علامتی تصویر

نئی دہلی : دو ماہ سے بھی کم عرصہ کے بعد اب ایک اور مسلم فوجی جوان کو آسام پولیس کے ذریعہ بنگلہ دیشی قرار دیا گیا ۔ ریٹائرڈ فوجی حولدار کو اس سلسلہ میں ایک نوٹس بھی بھیجا گیا ہے اور ان سے ہندوستانی شہریت سے متعلق ثبوت طلب کئے گئے ۔ ریٹائرڈ فوجی حولدار ماہر الدین احمد کو آسام کے برپیٹا فارنرس ٹربیونل کے ذریعہ نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔ ٹربیونل نے انہیں 6 نومبر کو پیش ہوکر اپنی شہریت کا ثبوت دکھانے کیلئے کہا ہے۔ احمد کے علاوہ ان کی اہلیہ حسن آرا کو بھی شہریت سے متعلق نوٹس بھیجا گیا ہے جبکہ حسن آرا کے والد کا نام 1964 کے ووٹر لسٹ میں موجود ہے ۔

اس سلسلہ میں احمد کے وکیل مصطفی خدام کا کہنا ہے کہ وہ مدد کیلئے فوج کی ویلفیئر ڈویزن سے رابطہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ۔ خدام جو اس طرح کے متعدد کیس لڑچکے ہیں ، کا کہنا ہے کہ اصل پریشانی بغیر تفتیش اور ابتدائی تصدیق کے پولیس کی کارروائی ہے۔ ادھر اس سلسلہ میں ڈی جی پی مکیش سہائے نے کہا کہ بارپیٹا کے ایس پی کو اس معاملہ کی جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان سے ڈی جی پی آفس کو ایک رپورٹ بھی بھیجنے کیلئے کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ستمبر میں ایک اور فوجی افسر محمد اجمل حق کو نوٹس بھیجا گیا تھا اور ان پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم میڈیا رپورٹس اور فوج کی مداخلت کے بعد آسام پولیس نے اپنی غلطی کیلئے معافی مانگ لی تھی۔ مگر تازہ واقعہ سے یہ بات پوری طرح ظاہر ہوجاتی ہے کہ آسام پولیس نے اپنی پچھلی غلطی سے کچھ بھی سبق نہیں لیا ہے۔

قابل ذکر ہے ماہرین الدین احمد کی آخری پوسٹنگ پنجاب کے بھٹنڈہ میں فیلڈ آرڈیننس کے طور پر تھی ۔ احمدکی 1964میں پیدائش ہوئی اور انہوں نے 1980 میں آسام ہائی اسکول امتحان پاس کیا تھا ۔ انہوں نے 1986 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2004 میں سروس سے ریٹائرڈ ہوگئے تھے ۔ احمد کے بڑے بھائی ریٹائرڈ اسسٹنٹ سیشن جج ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی بی ایس این ایل میں نوکری کرتے ہیں۔

احمد کے وکیل خدام نے کہا کہ اگر فوج اور عدالت نے احمد اور ان کی فیملی کی شہریت میں کسی قسم کی پریشانی نہیں پائی تو پولیس ان کا ایسا نوٹس کیسے بھیج سکتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آسام میں 100 سے زیادہ ایسے ٹربیونل موجود ہیں ، جس میں مشکوک افراد کی شہریت کے معاملات حل کئے جارہے ہیں ۔ جو لوگ بھی 1971 کے بعد غیر قانونی طور پر آسام آئے ہیں ، انہیں واپس بھیج دیا جائےگا۔ اب تک ٹربیونلس کے ذریعہ 52 ہزار سے زائد افراد کو غیر ملکی قرار دیا جاچکا ہے۔

First published: Nov 04, 2017 06:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading