உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آسام : پولیس کارروائی میں جاں بحق معین الحق کے بچوں کی تعلیمی کفالت کرے گی ایس آئی او

    آسام : پولیس کارروائی میں جاں بحق معین الحق کے بچوں کی تعلیمی کفالت کرے گی ایس آئی او

    آسام : پولیس کارروائی میں جاں بحق معین الحق کے بچوں کی تعلیمی کفالت کرے گی ایس آئی او

    ایس آئی او کے قومی صدر سلمان احمد نے کہا کہ تینوں بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہوگی ۔ ہم نے ان کے اہل خانہ سے جب اس بات کی درخواست کی تو ان کی جانب سے اسے قبول کرلیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    نئی دہلی : ایس آئی او کے ایک وفد نے ضلع درنگ میں آسام پولیس کی کارروائی میں جاں بحق ہوئے معین الحق اور شیخ فرید کے اہل خانہ سے پیر کو ملاقات کر کے تعزیت پیش کیا ۔ تنظیم نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ معین الحق کے تینوں بچوں کی پوری تعلیم کی کفالت کرے گی ۔ وفد کی قیادت کر رہے ایس آئی او کے قومی صدر سلمان احمد نے کہا کہ تینوں بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہوگی ۔ ہم نے ان کے اہل خانہ سے جب اس بات کی درخواست کی تو ان کی جانب سے اسے قبول کرلیا گیا۔ ہم ان کی بہتر زندگی اور خوشحالی کے لئے دعا کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہیں جنہوں نے انہیں اس تکلیف سے دوچار کیا ہے۔

    قابل ذکر ہے کہ معین الحق کے پسماندگان میں ان کے والدین، ​​بیوی اور تین بچے ہیں - دو بیٹے مُقصدل (13سالہ) اور مقدس علی (4سالہ) اور ایک بیٹی منظور بیگم (9سالہ)۔ وفد نے ضلع کے سِپاجھر علاقے کا بھی دورہ کیا جہاں انتظامیہ کے ذریعے تقریبا 800 خاندانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ وفد کے شرکاء نے کئی خاندانوں سے بات چیت کرکے ان کی مشکلات کو جاننے کی کوشش کی۔

    سلمان احمد مزید بتاتے ہیں کہ وہ علاقہ جہاں اس وقت بے دخل کئے گئے سینکڑوں خاندان رہ رہے ہیں ، ایک سیلاب زدہ، دریائی، جزیرہ نما علاقہ ہے ، جہاں سڑک کے ذریعہ رسائی نہیں ہے۔ انہیں ٹین کی چھتوں کے نیچے عارضی پناہ گاہوں میں رکھا گیا ہے۔ انہیں پانی، غذائی خوراک اور ادویات جیسی بنیادی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت فوری انہیں ضروری ریلیف فراہم کرے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ایس آئی او، جماعت اسلامی ہند اور جمعیت علمائے ہند کے مشترکہ وفد نے اتوار کو آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمنت بِسوا شرما سمیت ضلع درنگ کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس سدھارتھا بِسوا شرما اور درنگ کے ضلع ڈپٹی کمشنر پربھاتی تھاوسین سے تفصیلی ملاقات کی اور درنگ میں پولیس کی کارروائی اور مسلمانوں کو بے دخل کرنے کا معاملہ اٹھایا۔

    وزیراعلیٰ نے مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے وفد سے کہا کہ وہ سِپاجھر کا دورہ کریں ، جہاں بے گھر خاندانوں کو پناہ دی گئی ہے، ضروریات کا جائزہ لیں اور انہیں بتائیں کہ فوری طور پر کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔  انہوں نے تنظیموں سے امدادی کام شروع کرنے کی درخواست کی اور مطلوبہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: