உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اٹل بہاری واجپئی 91 سال کے ہوئے ، صحافی بننا چاہتے تھے، بن گئےوزیر اعظم

    نئی دہلی : اٹل بہاری واجپئی ایک شاعر، ایک صحافی، سیاستدان اور پھر ملک کے وزیر اعظم ، ہندوستانی سیاست کے ان چنندہ شخصیات میں سے ایک ہیں ، جن کی مخالفین بھی تنقید نہیں کرتے ہیں۔ یہ اٹل جی ہی قیادت کا ہی کمال تھا کہ این ڈی اے نے 23 جماعتوں کے ساتھ مل کر نہ صرف حکومت بنائی بلکہ اپنی مدت کار بھی مکمل کی۔ اٹل جی آج بھلے ہی سیاست سے دور ہوں، لیکن لوگ انہیں آج بھی اتنے ہی عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ آج وہ 91 سال کے ہو گئے ہیں۔

    نئی دہلی : اٹل بہاری واجپئی ایک شاعر، ایک صحافی، سیاستدان اور پھر ملک کے وزیر اعظم ، ہندوستانی سیاست کے ان چنندہ شخصیات میں سے ایک ہیں ، جن کی مخالفین بھی تنقید نہیں کرتے ہیں۔ یہ اٹل جی ہی قیادت کا ہی کمال تھا کہ این ڈی اے نے 23 جماعتوں کے ساتھ مل کر نہ صرف حکومت بنائی بلکہ اپنی مدت کار بھی مکمل کی۔ اٹل جی آج بھلے ہی سیاست سے دور ہوں، لیکن لوگ انہیں آج بھی اتنے ہی عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ آج وہ 91 سال کے ہو گئے ہیں۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : اٹل بہاری واجپئی ایک شاعر، ایک صحافی، سیاستدان اور پھر ملک کے وزیر اعظم ، ہندوستانی سیاست کے ان چنندہ شخصیات میں سے ایک ہیں ، جن کی مخالفین بھی تنقید نہیں کرتے ہیں۔ یہ اٹل جی ہی قیادت کا ہی کمال تھا کہ این ڈی اے نے 23 جماعتوں کے ساتھ مل کر نہ صرف حکومت بنائی بلکہ اپنی مدت کار بھی مکمل کی۔ اٹل جی آج بھلے ہی سیاست سے دور ہوں، لیکن لوگ انہیں آج بھی اتنے ہی عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ آج وہ 91 سال کے ہو گئے ہیں۔


      atal3


      آج کے دن یعنی 25 دسمبر 1924 کو گوالیار میں شندے کی چھاؤنی کی تنگ گلیوں میں کلیسا کی گھنٹی نے جیسے ہی کرسمس یعنی 25 دسمبر شروع ہونے کا اعلان کیا ،اسی وقت كمل سنگھ کے باغ میں ایک چھوٹے سے گھر میں كلكاري سنائی پڑی۔ یہ كلكاري تھی اٹل بہاری واجپئی کی اور یہ گھر تھا پنڈت کرشن بہاری واجپئی کا۔ ماں کرشنا کی اٹل ساتویں اولاد تھے۔ تین بہنیں، تین بھائی۔ اٹل بہاری واجپئی کی سنجیدگی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ان کا بچپن شرارتوںسے بھرا ہوا تھا۔ بچپن سے ہی ان کو مشاعروں میں جا کر نظمیں سننا، لیڈروں کی تقریر یں سننا اور جب موقع ملے تو میلے میں جا کر موج مستی کرنا پسند تھا۔


      atal4


      اٹل کو بچپن سے ہی ادیب اور صحافی بننے کی تمنا تھی۔ ان کی اسکول کی تعلیم بڑنگر کے گوركھي اسکول میں ہوئی۔ بڑنگر میں ہی ان کے والد ٹیچر تھے۔ کالج کی تعلیم کے لئے اٹل نے گوالیار کے وکٹوریہ کالجکا انتخاب کیا۔ یہیں پڑھتے ہوئے چالیس کی دہائی کی شروعات میں اٹل بہاری واجپئی آر ایس ایس سے وابستہ ہوئے تھے اور بھارت چھوڑو تحریک کے دوران جیل بھی گئے تھے۔


      لوگ بتاتے ہیں کہ اٹل بہاری آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی تقریر کا ریہرسل کیا کرتے تھے۔ واجپئی نے وکٹوریہ کالج سے ہی بی اے کیا۔ ہندی، انگریزی اور سنسکرت میں امتیازی نمبرات حاصل کئے۔ کالج کے مقابلوں کے اٹل بہاری واجپئی ہیرو ہوا کرتے تھے اور وکٹوریہ کالج کا ہیرو آگے چل کر ہندوستان کا ہیرو بن گیا۔


      atal6



      سال 1957 میں جن سنگھ نے انہیں تین لوک سبھا سیٹوں لکھنؤ، متھرا اور بلرام پور سے الیکشن لڑایا۔ لکھنؤ میں وہ انتخاب ہار گئے، متھرا میں ان کی ضمانت ضبط ہو گئی، لیکن بلرام پور سے الیکشن جیت کر 33 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ لوک سبھا پہنچے۔ لوک سبھا میں ان کی تقریر سن کر خود اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ یہ شخص ایک دن ملک کا وزیر اعظم بنے گا۔.


      atal9


      سال 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی وجود میں آئی اور واجپئی پارٹی کے صدر بنے۔ 1980 سے 1986 تک وہ بی جے پی کے صدر رہے اور اس دوران وہ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر بھی رہے۔ 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس کی ایسی لہر چلی کہ بی جے پی اس لہر میں بہہ گئی اور صرف دو سیٹوں تک محدود ہوگئی ۔



      اٹل بہاری واجپئی پہلی مرتبہ 16 مئی 1996 کو وزیر اعظم بنے، لیکن لوک سبھا میں اکثریت ثابت نہ کر پانے کی وجہ سے 31 مئی 1996 کو ان استعفی دینا پڑا۔ اس کے بعد 1998 تک وہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر رہے۔ 1998 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی پرانے تجربات سے سبق لیتے ہوئے اتحادی جماعتوں کے ساتھ میدان میں اتری اور اس طرح این ڈی اے کی تشکیل ہوئی۔ لوک سبھا میں اپنے اتحاد کی اکثریت ثابت کیا اور اس طرح اٹل ایک بار پھر وزیر اعظم بنے۔ وزیر اعظم بنتے ہی اٹل نے پوكھر ایٹمی تجربہ کرکے پوری دنیا کو اپنی طاقت دکھا دی۔ 1999 میں ایک بار پھر واجپئی بحران کا شکار ہوگئے اور جے للتا کی پارٹی کے ذریعہ حمایت واپس لینے کے سبب حکومت گر گئی۔


      سال 1999 میں ایک بار پھر الیکشن ہوا اور اٹل بہاری واجپئی ایک بار پھر وزیر اعظم بنے۔ واجپئی کی قیادت میں ملک کی پہلی ایسی غیر کانگریسی حکومت بنی جو اپنی مدت کار پوری کر پائی۔

      First published: