உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایک عہد کا خاتمہ : سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا انتقال ، ملک بھر میں سوگ کی لہر

    سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایمس میں شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر آخری سانس لی ۔

    سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایمس میں شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر آخری سانس لی ۔

    سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایمس میں شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر آخری سانس لی ۔

    • Share this:

      ہندوستانی سیاست کے قد آور لیڈروں میں شمار ہونے والے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا طویل علالت کے بعد آج شام آل انڈیا انسٹیٹیوٹ (ایمس) میں انتقال ہو گیا۔وہ 93 سال تھے اور کئی برسوں سے بیمار چل رہے تھے۔ ایمس نے شام ساڑھے پانچ بجے میڈیکل بلیٹن جاری کر کے بتایا کہ مسٹر واجپئی نے پانچ بجکر پانچ منٹ پر آخری سانس لی۔
      اسپتال کے مطابق گزشتہ 36 گھنٹے سے ان کی حالت مسلسل بگڑتی جارہی تھی اور انہیں لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا گیا تھا۔ تمام کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہیں جا سکا۔ انہیں گزشتہ 11 جون کو ایمس میں بھرتی کیا گیا تھا۔
      اٹل بہاری واجپئی کے انتقال پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم مودی سمیت سبھی سرکردہ سیاسی شخصیات نے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔


       









      خیال رہے کہ آج صبح سے ہی اٹل بہاری واجپئی کی صحت کی معلومات حاصل کرنے کیلئے سیاسی لیڈروں کا ایمس میں تانتا لگا ہوا تھا ۔ جمعرات کو دوپہر ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم نریندر مودی بھی واجپئی سے ملنے کیلئے ایمس پہنچے ۔ ان کے علاوہ بی جے پی صدر امت شاہ ، کانگریس صدر راہل گاندھی ، راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے ، امر سنگھ ، اروند کیجریوال سمیت متعدد سیاسی لیڈران بھی ایمس پہنچے تھے ۔
      قابل ذکر ہے کہ اٹل بہاری واجپئی کی پیدائش مدھیہ پردیش کے گوالیار میں 25 دسمبر 1924 کو ہوئی تھی ۔ ان کے والد کرشن بہاری واجپئی ٹیچر تھے ۔ ان کی والدہ کرشنا تھیں ۔ ویسے آبائی طور پر ان کا تعلق اترپردیش کے آگرہ ضلع کے بٹیشور سے ہے ، لیکن والد مدھیہ پردیش میں ٹیچر تھے ، اس لئے ان کی پیدائش وہیں ہوئی ۔ حالانکہ اترپردیش کی سیاست میں ان کو کافی دلچسپی تھی ۔

      یو این آئی ان پٹ کے ساتھ ۔

      First published: