உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اس طرح مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتے تھے

    سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی: فائل فوٹو۔

    سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے کوشاں تھے اور اس کے لئے انہوں نے متعدد اقدامات بھی کئے تھے۔

    • Share this:

       آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(ایمس) میں زیر علاج سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حالت انتہائی نازک ہوگئی ہے اور انہیں لائف سپورٹنگ سسٹم پر رکھا گیا ہے۔ واجپئی کی خیریت جاننے کے لئے سیاستداں مسلسل ایمس پہنچ رہے ہیں۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کشمیر کے تعلق سے اٹل بہاری واجپئی کی کیا پالیسی تھی اور انہوں نے اس بارے میں کیا نعرہ دیا تھا۔


      سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے کوشاں تھے اور اس کے لئے انہوں نے متعدد اقدامات بھی کئے تھے۔ انہوں نے انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کا نعرہ دیا تھا اور کہا تھا کہ یہی جموں و کشمیر کو آگے لے جانے کے لئے کنجی ہے۔


      سابقہ این ڈی اے حکومت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اس وقت کے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مل کر کوشش کی تھی اور وہ کسی نتیجے پر پہنچ بھی گئے تھے۔ لیکن حکومت ہی میں شامل بعض افراد مسئلہ کشمیر کو حل ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے اور اس موقع پر انہوں نے ایک ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ پرویز مشرف ناراض ہو کر آگرہ سے واپس چلے گئے اور معاملہ بنتے بنتے بگڑ گیا۔


      گزشتہ 19 اپریل کو جب وزیر اعظم نریندر مودی کٹرا واقع ماں ویشنوی دیوی نارائن سپر اسپیشیلٹی اسپتال کا افتتاح کرنے جموں پہنچے تھے تو انہوں نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میں واجپئی کے اس نعرہ کا ذکر کیا تھا۔ نریندر مودی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت بی جے پی کے قدآور رہنما اٹل بہاری واجپئی کے نقش قدم پر ہی چلے گی اور اسی سے جموں وکشمیر میں امن و امان قائم ہو گا۔


      First published: