உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lucknow: فارسی اور اردو کے لسانی  رشتوں کے ذریعے  ادب کو مستحکم بنانے کی کوشش

    فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئرمین اطہر صغیر زیدی عرف تورج زیدی نے حال ہی میں ایرانی کلچرل سفیر سے ملاقات کرفارسی اردو اور اردو فارسی کے ترجمے کے کام کو حتمی شکل دینے کے لئے تبادلہ خیال کیاہے جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آسکتے ہیں۔

    فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئرمین اطہر صغیر زیدی عرف تورج زیدی نے حال ہی میں ایرانی کلچرل سفیر سے ملاقات کرفارسی اردو اور اردو فارسی کے ترجمے کے کام کو حتمی شکل دینے کے لئے تبادلہ خیال کیاہے جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آسکتے ہیں۔

    فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئرمین اطہر صغیر زیدی عرف تورج زیدی نے حال ہی میں ایرانی کلچرل سفیر سے ملاقات کرفارسی اردو اور اردو فارسی کے ترجمے کے کام کو حتمی شکل دینے کے لئے تبادلہ خیال کیاہے جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آسکتے ہیں۔

    • Share this:
    لکھنئو: فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کی جانب سے زبان وادب کے فروغ کے لئے تیار کئے گئے خصوصی منصوبوں کے تحت ریاست و ملک کی اہم لائبریریوں کو کتابیں ارسال کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے ساتھ ہی کمیٹی کے چئرمین نے مختلف زبانوں کے مابین لسانی و ادبی رشتوں کے فروغ کے لئے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں اس باب میں فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئرمین اطہر صغیر زیدی عرف تورج زیدی نے حال ہی میں ایرانی کلچرل سفیر سے ملاقات کرفارسی اردو اور اردو فارسی کے ترجمے کے کام کو حتمی شکل دینے کے لئے تبادلہ خیال کیاہے جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آسکتے ہیں۔ اطہر صغیر کہتے ہیں کہ ہم کمیٹی کے پلیٹ فارم سے کچھ ایسا مستحکم کام کرنا چاہتے ہیں جس سےزبان وادب اور نئی نسل کے مابین مضبوط رشتے قائم ہو سکیں ۔ یوں تو امداد ِ مصنفین ، مسودوں کی منظوری اور اشاعت، متیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے والے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے طلباء و طالبات کو وظائف کی تقسیم ، پی ایچ ڈی مقالوں کے لئے امداد ، مشاعروں سیمیناروں مقاصد وں ،مسالموں ،ڈراموں اور دیگر فنونِ لطیفہ پر مبنی پروگراموں کا انعقاد ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے اوراب بھی ہو رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جس انداز اور معیار کے مشاعرے اور سمینار گزشتہ چند برسوں میں منعقد کئے گئے کیا ان سے واقعی اردو اور اہل اردو کا بھلا ہو سکے گا؟ کیا واقعی وہ اغراض و مقاصد پورے ہو سکیں گے جن کی تکمیل کے لئے اردواکادمی اور فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تھا ؟ چئرمین اطہر صغیر زیدی اعتراف کرتے ہیں کہ حالات اور تقاضے بدل چکے ہیں لہٰذا گھسی پٹی پرانی روش پر چل کر نہ اردو کو استحکام بخشا جاسکتا ہے اور نہ اہل اردو کی توقعات پوری کی جاسکتی ہیں لیکن دستور تبدیل کرنا بھی ہمارے اختیار میں نہیں تاہم کچھ ایسے خاکوں اور منصوبوں میں رنگ بھرنے کی کوشش ضرور کی جارہی ہے جس سے اردو اور اہل اردو کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔

    تورج زیدی کے مطابق یوگی جی کے واضح احکامات ہیں کہ بہتر کام کیا جائے اور ہم حکومت کی توقع پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ مختلف اکادمیوں کی جانب سے ادبی ثقافتی اور تہذیبی پروگراموں کے لئے دی جانے والی امداد کے پس منظر میں کمیشن خوری کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں ، صرف چند مخصوص لوگوں سے ہی پروگرام کرانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں اور انعامات کی تقسیم میں بد عنوانیاں بھی اجاگر ہوتی رہی ہیں تاہم تورج زیدی کے مطابق انہوں نے اس باب میں سنجیدہ پیش رفت کرتے ہوئے سخت احکامات جاری کئے ہیں اور ان کے چئرمین رہتے ہوئے کسی بھی طرح کی کمیشن خوری یا کوئی غلط کام نہیں ہونے دیا جائے گا۔حالانکہ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بار بار مطالبات کے باوجود بھی اتر پردیش اردو اکادمی اور فخر الدین کمیٹی کی جانب سے کوئی ایسا کام نہیں شروع کیا گیا ہے جو واقعی نیا اور زبان و اہل زبان کے لئے بڑی راحت فراہم کرسکے ۔

    بلڈوزر مہم کے خلاف سڑکوں پر اترے Shaheen Bagh کے لوگ، حراست میں لئے گئے مظاہرین: جانئے سب

    معروف صحافی عامر صابری کہتے ہیں کہ مصنفین کی جانب سے موصول ہونے والی سالہ سال سے جمع ہورہی کتابیں لائبریریوں کو بھیج کر کمیٹی اپنی صفائی کررہی ہے یا کوئی کارنامہ انجامُ دے رہی ہے یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔۔کوئی نیا اہم اور مستحکم کام کرنے سے متعلقہ کام کرنےکے سوال کے جواب میں ذمہ داران کبھی دستوری مجبوریوں کا رونا روتے ہیں ہیں تو کبھی بجٹ کی کمی کا حوالہ و جواز پیش کرتے ہیں جبکہ اہل اردو کی جانب سے یہ شکایتیں بھی عام ہیں کہ غیر معیاری مشاعروں اور مخصوص لوگوں کے ذریعے ہی کرائے جانے والے سیمیناروں کے نام پر اپنے متعلقین اور کچھ مخصوص لوگوں کی منھ بھرائی کا سلسلہ ا بھی رکا نہیں ہے۔


    معروف محب اردو عبد انصیر ناصر کے مطابق موجودہ ذمہ داروں کو اردو اور اہل اردو سے زیادہ ان حکمرانوں اور سیاست دانوں کو خوش کرنے کی فکر رہتی ہے جن کی بدولت انہیں یہ منصب حاصل ہوئے ہیں ، محمد سیف عامر صابری کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں ذمہ دار اہل اردو اور صحافیوں کا ایک وفد جلد ہی اتر پردیش کے چیف سکرٹری اور وزیراعلیٰ سے ملاقات کر انہیں کچھ ضروری رموز نکات سے آگاہ کرائے گا ۔ ساتھ ہی ان لوگوں کے ناموں کی فہرست بھی پیش کرے گا جنہوں نے مختلف تنظیموں سنستھاوں اور انجمنوں کے ناموں سے رجسٹریشن کراکر اردو اکادمی اور فخرالدین کمیٹی کے کچھ لوگوں کی ملی بھگت سے بار بار مالی تعاون حاصل کرکے منہ صرف بد عنوانیاں کی ہیں بلکہ اردو اور اہل اردو کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بدنام کرنےکا کام بھی کیا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: