உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدرسہ باب العلوم، دہلی میں شرپسندوں کے ذریعہ دیررات طلبہ کو زندہ جلانے کی کوشش

    حادثہ کے بعد مدرسہ میں ممبراسمبلی حاجی اشراق خان ودیگر۔

    حادثہ کے بعد مدرسہ میں ممبراسمبلی حاجی اشراق خان ودیگر۔

    حادثہ میں ایک بچے کا پیرجل گیا، اس کے شورمچانے پرسبھی طلبا اٹھ گئے اور بڑا حادثہ نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے ایف آئی آردرج کرلیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      دارالحکومت دہلی کے جعفرآباد واقع مدرسہ باب العلوم میں کل رات تقریباً دوبجے شرپسندوں نے طلبا کو جلانے کی کوشش کی، لیکن وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ تاہم اس حادثہ کے بعد اساتذہ اورطلبا انتہائی پریشان ہیں۔ تاہم پولیس کی یقین دہانی کے بعد ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ہماری کسی سے نہ تو کوئی دشمنی ہے اورنہ ہی طلبا اوراساتذہ کا کسی سے کوئی جھگڑا ہوا ہے۔
      اطلاعات کے مطابق جمعرات کی رات تقریباً دوبجے مدرسہ باب العلوم میں دائیں طرف کی تاریک گلی سے کھڑکی کے راستے سے سوئے ہوئے مدرسہ کے بچوں پرتیل ڈال کر جلانے کی کوشش ہوئی۔ پہلے بچوں پرمٹی کا تیل ڈال کرآگ لگانے کی کوشش ہوئی۔ مدرسہ کے مہتمم مولانا داود امینی کے مطابق بچے کے پیر کا نچلا حصہ جل گیا، جس کے بعد اس نے شورمچایا اورسبھی طلبا نیند سے بیدارہوگئے، جس کے بعد شرپسند عناصر بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔ حالانکہ اس دوران بڑا حادثہ ٹل گیا اورباقی بچے محفوظ ہیں۔
      حادثے کے وقت مدرسہ میں موجود استاد قاری محمد آزاد نے بتایا مدرسے کی باہری حصہ کی جانب سے یہ واقعہ رونما ہوا، اس کے بعد ہم نے 100 نمبرپرفون کرکے پولیس کو اطلاع دی۔ متاثرہ بچے کو جی ٹی بی اسپتال میں داخل کرایاگیا۔ پولیس نے آکرتیل والے بستراوروہاں پڑی ماچس کو اپنے قبضے میں کرلیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔

      مدرسہ کے مہتمم مولانا داود قاسمی کے بتایا کہ مدرسے کے باہری جانب سے تیل ڈالا گیا ہے، اس لئے مدرسے کے سی سی ٹی وی کیمرے میں نہیں آسکا۔ تاہم اس گلی میں حاجی عبدالمنان کے سی سی ٹی وی میں دومشتبہ افراد نظرآرہے ہیں، جس کی پولیس جانچ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آردرج ہوگئی ہے، لیکن ابھی کسی کی شناخت یا گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اے سی پی نے ہمیں کارروائی کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔

      حالانکہ اس سلسلے میں جعفرآباد تھانہ کے ایس ایچ اووویک کمارتیاگی سے فون پررابطہ کیا گیا توانہوں نے  بتایا "میں اس وقت کورٹ میں ہوں، بعد میں بات کرتا ہوں"۔ اس کے بعد جب تھانے کے لینڈ لائن پرکال کی گئی تو ایس آئی رمیش نے بتایا کہ اس طرح کے حادثے کا کوئی بھی فون کال ہمارے ریکارڈ میں درج نہیں ہے۔
      حادثے کے بعد جمعیۃ علما ہند اورمقامی ممبراسمبلی  حاجی اشراق نے باب العلوم پہنچ کر پورے حالات کی جانکاری حاصل کی اور کارروائی کے لیے افسران سے رابطہ کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی طرف مولانا ضیاء اللہ قاسمی،  مولانا عظیم اللہ قاسمی، مولانا محمد عارف قاسمی کے علاوہ  مولانا جاوید قاسمی اورقاری احرارالحق جوہرقاسمی وغیرہ نے پہنچ حادثہ پرتشویش کااظہار کیا۔
      First published: