உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Nupur Sharma Case: سابق جج اوروکیل کےخلاف نہیں چلےگاتوہین عدالت کاکیس، اٹارنی جنرل نے اٹھایا یہ قدم

    Youtube Video

    Nupur Sharma Petition:درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پردی والا کی بنچ نے زبانی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوپور شرما کے بیان سے ملک میں آگ لگ گئی ہے۔ یکم جولائی کو، ان کی سختی سے سرزنش کی گئی

    • Share this:
      نئی دہلی: بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما (Nupur Sharma)کے کیس کے حوالے سے سابق جج(Former Judge) اور وکیل (Lawyer)کے خلاف کوئی توہین کا مقدمہ نہیں چلے گا۔ اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال (Attorney General KK Venugopal)نے سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید کرنے والے سابق جج اور وکیل کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دراصل دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ایس این ڈھینگرا، سابق ایڈیشنل ایس جی امان لیکھی اور سینئر ایڈوکیٹ کے آر کمار کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان سب نے بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے معاملے میں سپریم کورٹ کے ججوں کے ریمارکس پر اعتراض جتایا تھا۔

      یادرہے کہ پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس کے معاملے میں نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک کے کئی مقامات پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ایسے میں نوپور شرما نے سپریم کورٹ میں اپنے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں درج تمام مقدمات کو یکجا کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ جس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں نے ان پر سخت ریمارکس کیے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں :

      درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پردی والا کی بنچ نے زبانی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوپور شرما کے بیان سے ملک میں آگ لگ گئی ہے۔ یکم جولائی کو، ان کی سختی سے سرزنش کی گئی کرتے ہوے، بنچ نے کہا تھا کہ یہ کہتے ہوئے کہ ان کی (نوپور کی) "بے قابو زبان" نے "پورے ملک کو آگ لگا دی"۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ 'ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے اکیلے شرما ہی ذمہ دار ہیں'۔

      اس ریمارکس کے بعد مختلف ادارے آئے روز چیف جسٹس کو خط لکھ کر شکایت کر رہے ہیں۔ کیرالہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس پی این رویندرن نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اس ریمارک سے سپریم کورٹ نے لکشمن ریکھا کو پار کر دیا ہے۔ ان کے خط پر عدلیہ، بیوروکریسی اور فوج کے 117 سابق افسران اور ججوں کے دستخط ہیں۔

      دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ایس این۔ ڈھینگرا نے نوپور شرما کے معاملے میں سپریم کورٹ کے ریمارکس پر بھی تنقید کی۔ ایک نیوز چینل سے بات چیت میں انہوں نے کہا تھا، 'میرے مطابق یہ تبصرے اپنے آپ میں بہت غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ سپریم کورٹ کو ایسے ریمارکس دینے کا کوئی حق نہیں ہے، جس سے اس شخص کا پورا کیرئیر خراب ہو جائے جو اس سے انصاف مانگنے آیا ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک طرح سے نوپور شرما پر ان کی بات سنے بغیر الزام عائد کیا اور فیصلہ بھی سنا دیا۔ نہ گواہی تھی، نہ تفتیش، اور نہ ہی اسے اپنی وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: