ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنؤ یونیورسٹی :نوابین اودھ نے ایران اورہندوستان کے رشتوں کو استحکام بخشنے کی کوششیں کی تھی

نوابین اودھ نے زبان وبیان اور تہذیب وثقافت کی بنیاد پر ایران و لکھنؤ اور ایران وہندوستان کے رشتوں کو استحکام بخشنے کی کوششیں کی تھیں۔

  • Share this:
لکھنؤ یونیورسٹی :نوابین اودھ نے  ایران اورہندوستان کے رشتوں کو استحکام بخشنے کی کوششیں  کی تھی
بین الاقوامی سمینار میں ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کے علاوہ ایران سے تشریف لائے اہم اسکالرز اور اداکاروں نے بھی شرکت کی۔

زبان ولسان اور تہذیب وثقافت کی بنیاد پر انسانوں کو بھی قریب لایا جاسکتاہے اور سرحدی فاصلے بھی کم کئے جاسکتے ہیں اور جب بات ہندوستان اور ایران کے باہمی رشتوں کے حوالے سے کی جائے تو یہ منظر مزید روشن اور امید افزا نظرآنے لگتاہے۔ان خیالات کا اظہار ایران کے معروف اسکالرز نے لکھنؤ یونیورسٹی میں کیا۔لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہء علوم مشرقیہ کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی سمینار میں ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کے علاوہ ایران سے تشریف لائے اہم اسکالرز اور اداکاروں نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر ارشد جعفری کی کوششوں سے منعقد ہونے والے اس سمینار کو’’فارسی ،عربی اور اردو زبان وادب کے فروغ میں نوابین اودھ کا حصہ‘‘ عنوان دیا گیاتھا


 شقایق دلشاد۔ایکٹر ، ماڈل، ایران۔(تصویر:طارق قمر)۔
شقایق دلشاد۔ایکٹر ، ماڈل، ایران۔(تصویر:طارق قمر)۔


اس عنوان کے تحت پیش کئے گئے مقالوں میں کچھ اہم اسکالرز نے نئی تحقیقی کو سامنے لانے کی کامیاب کوشش کی اور یہ واضح کیا کہ سرکاری اور عوامی سطح پرجس انداز سے نوابین اودھ نے زبان وبیان اور تہذیب وثقافت کی بنیاد پر ایران و لکھنؤ اور ایران وہندوستان کے رشتوں کو استحکام بخشنے کی کوششیں کی تھیں۔ ان کی نقوش آج بھی قائم ہیں۔صرف زبان وبیان کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ بود وباش اور طرز تعمیر کے حوالے سے بھی یہ منظر نامہ کافی روشن نظر آتاہے۔


ایران کی معروف اداکارہ اور موڈلنگ میں اپنی شناخت قائم کرنے والی شقایق دلشاد کے مطابق ہندوستان آنا انکا ایک ایسا خواب تھا جس کی تعبیر ملنے کے بعد انہیں نہایت خوشی ومسرت کا احساس ہو اہے۔شقائق دلشاد کہتی ہیں کہ جتنا کچھ انہوں نے ہندوستان کی تہذیب یہاں کی ثقافت اور مہمان نوازی کے بارے میں سنا تھا اس ملک کو اس سے کہیں زیادہ اور بہتر پایا ہے۔جس انداز سےلکھنؤ میں مہمان نوازی کی گئی ہے اس سے یہ احساس ہوا ہے کہ واقعی ہندوستان اور ایران کی تہذیبوں کا تعلق خاصہ قدیم اور قریبی ہے۔یہاں کے لوگوں کےخلوص واخلاق نے احساس ہی نہیں ہونے دیاکہ ہم کسی اجنبی ملک یا دیار غیر میں ہیں۔۔

شقایق دلشاد اور افسانِ جمشیدیان
شقایق دلشاد اور افسانِ جمشیدیان


معروف ایرانی اسکالر افسانِ جمشید یان کا مانناہے کہ یوں تولکھنؤ بہت خوبصورت اور تہذیب یافتہ شہر ہے ۔لیکن انہیں جس خوبی نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہاں کی ایمانداری اور شائستگی ہے۔اہل لکھنؤ آج بھی ان قدیم انسانی قدروں اور تہذیبی رویوں کا خیال رکھتے ہیں جنکے ذریعے اس شہر کو ممتاز شناخت حاصل ہوئی تھی۔ افسانِ جمشیدیان کہتی ہیں کہ دورانِ خریداری بازار میں دوکانداروں نے جو ان کے ساتھ سلوک کیا وہ حیرت انگیز اور باعث تقلید ہے۔دوکانداروں نے نہ صرف یہ کہ فروخت کی جانے والی اشیاء کی نہایت مناسب قیمتیں لیں بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھا کہ مہمان خریداروں کے ساتھ کیا سلوک کیاجاتاہے۔لکھنوئ کے خواص وعام نے دل ودماغ پر جو نقش مرتسم کئے ہیں وہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔

شقایق دلشاد اور افسانِ جمشیدیان نے زبان وادب اور تہذیب وثقافت کی بنیاد پر ایران وہندوستان کے رشتوں کو بہتر بنانے کے لئے ڈاکتر ارشد جعفری ، پروفیسر انیس اشفاق ، پروفیسر عراق رضا زیدی، ڈاکتر سعد بن مخاشن پروفیسر علیم اشرف اور پروفیسر آصف نعیم سمیت کئی اہم ادیبوں اور قلماکاروں کے ساتھ خصوصی گفتگو کی اور معززین ِ لکھنؤکے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا۔مذکورہ خواتین محکمہء تعلیم کے توسط سے ایک تفصیلی رپورٹ حکومت ایران کے اہم منصب داروں کو بھی پیش کریں گی جن کی بنیاد پر ایسے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے جو ایران وہندوستان کے رشتوں کو مزید مستحکم وبہتر بناسکیں
First published: Jan 30, 2020 08:34 PM IST