உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایودھیا میں ہتھیار کی تربیت دینے کے بعد بجرنگ دل کا ایک اور اعلان

    لکھنؤ: دائیں بازو کی تنظیم بجرنگ دل ایودھیا کے بعد اترپردیش کے کئی شہروں میں اپنے کارکنوں کو رائفل چلانے، تلوار بازی اور لاٹھیاں چلانے کا ہنر سکھایا جائے گا۔

    لکھنؤ: دائیں بازو کی تنظیم بجرنگ دل ایودھیا کے بعد اترپردیش کے کئی شہروں میں اپنے کارکنوں کو رائفل چلانے، تلوار بازی اور لاٹھیاں چلانے کا ہنر سکھایا جائے گا۔

    لکھنؤ: دائیں بازو کی تنظیم بجرنگ دل ایودھیا کے بعد اترپردیش کے کئی شہروں میں اپنے کارکنوں کو رائفل چلانے، تلوار بازی اور لاٹھیاں چلانے کا ہنر سکھایا جائے گا۔

    • IANS
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنؤ: دائیں بازو کی تنظیم بجرنگ دل ایودھیا کے بعد اترپردیش کے کئی شہروں میں اپنے کارکنوں کو رائفل چلانے، تلوار بازی اور لاٹھیاں چلانے کا ہنر سکھایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اتر پردیش کے کئی شہروں میں اسی ماہ بجرنگ دل کے کارکنوں کے لئے ٹریننگ کیمپ لگائے جائیں گے۔ بجرنگ دل کا ارادہ پانچ جون سے پہلے سلطان پور، گورکھپور، پیلی بھیت، نوئیڈا اور فتح پور میں ایسے کیمپ منعقد کرنے کا ہے۔
      ان کیمپوں میں بجرنگ دل کے کارکنوں کو نہ صرف رائفل چلانے، تلوار بازی اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دی جائے گی، بلکہ حملے سے بچنا بھی سکھایا جائے گا ۔ ساتھ ہی ساتھ مارشل آرٹ کی ٹریننگ بھی دی جائے گی۔
      غور طلب ہے کہ ایودھیا میں کارکنوں کو رائفل چلانے، تلوار بازی اور لاٹھیاں چلانے کی ٹریننگ دینے کے لئے کیمپ منعقد کرنے کا معاملہ طول پکڑ چکا ہے۔ اس کو لے کر پردیش کی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے۔ اس پورے معاملہ کو اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
      ادھر حکمراں سماج وادی پارٹی کے لیڈروں اور متعدد مذہبی لیڈروں نے بجرنگ دل کے کارکنوں کو ہتھیاروں کی ٹریننگ دئے جانے کو قابل اعتراض بتایا ہے اور اس کی سخت مذمت کی ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی نے ایودھیا میں بجرنگ دل کے کارکنوں کو رائفل چلانے کی تربیت پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو کہا تھا کہ اگر مسلم تنظیمیں اس طرح کی ٹریننگ کیمپ چلاتیں ، تو کیا ہوتا،شاید آسمان ٹوٹ کر گر پڑتا۔ اویسی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں کو ہندوؤں کو محفوظ رکھنے کے لئے ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ ہندوؤں پر کون سا خطرہ آ گیا ہے۔
      First published: