உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اجودھیا تنازع : مولانا سید ارشد مدنی نے ثالثی پینل کو مزید وقت دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا کیا خیر مقدم

    مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

    مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

    صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ اگرکوئی تنازعہ بات چیت اور باہمی صلح سے حل ہوجائے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا۔

    • Share this:
      بابری مسجد اوررام مندرتنازعہ میں ثالثی پینل کواب 15 اگست کا وقت دیاگیاہے۔مصالحت کے لیے تشکیل کمیٹی کے چیئرمین نے ثالثی کے عمل کوپورا کرنے کے لیے 15 اگست تک وقت دینے کی گزارش کی تھی، جس کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے قبول کرتے ہوئے ثالثی کمیٹی کو 15 اگست تک کا وقت دے دیا۔ساتھ ہی ساتھ چیف جسٹس نے یہ بھی صاف کردیاکہ اس رپورٹ میں مزید کیا کچھ لکھا گیا ہے اور ثالثی کا عمل کہاں تک پہنچا اس سے متعلق تفصیل نہیں بتائی جا سکتی ، کیونکہ یہ سب رازداری طلب ہے۔
      عدالتی پیش رفت پر صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی تنازعہ بات چیت اور باہمی صلح سے حل ہوجائے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا، ثالثی کمیٹی کی مدت کارمیں اضافہ کے پس منظرمیں انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ اس سے کمیٹی کومصالحت کے لئے مزیدوقت مل جائے گا انہوں نے یہ بھی کہاکہ مصالحتی فارمولہ کے لئے وقت کا بڑھایا جانا ایک خوش آئندبات ہے اوراس فیصلہ سے محسوس ہوتاہے کہ ثالثی کمیٹی نے کوئی پیش رفت ضرورکی ہے ورنہ عدالت مدت کارمیں اضافہ نہ کرتی ۔
      مولانا مدنی نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے ہم صلح اور بات چیت کے لئے تیا رہوئے ہیں لیکن یہ بات چیت آستھا کی بنیادپرنہیں ملکیت کی بنیادپر ہونی چاہئے ، انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک پرانے تبصرے کا حوالہ دیا اورکہاکہ عدالت ابتدامیں ہی واضح کرچکی ہے کہ یہ آستھا کانہیں بلکہ ملکیت کا معاملہ ہے ، انہوں نے اپنے وکلاء کی کارکردگی پر اظہاراطمینان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وکلاء اور خاص طورپر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے آئینی بینچ کے سامنے حکومت اترپردیش کی جانب سے گواہوں کے بیانات کے ترجمہ میں موجودخامیوں کی جس طرح نشاندہی کی وہ لائق ستائش ہے۔
      First published: