ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ایودھیا کیس : یہ معاملہ ایک مسجد کا نہیں بلکہ آئین وقانون کی بالادستی کا ہے : مولانا سید ارشد مدنی

صدرجمعیۃعلماء ہند مولاناسید ارشدنی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آج ایک بارپھر اس بات کی وضاحت کردی کہ یہ معاملہ آستھا کانہیں بلکہ ملکیت کا ہے ۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ایودھیا کیس : یہ معاملہ ایک مسجد کا نہیں بلکہ آئین وقانون کی بالادستی کا ہے : مولانا سید ارشد مدنی
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

صدرجمعیۃعلماء ہند مولاناسید ارشدنی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آج ایک بارپھر اس بات کی وضاحت کردی کہ یہ معاملہ آستھا کانہیں بلکہ ملکیت کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم قانون اورعدلیہ پر مکمل اعتمادرکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمہ میں تمام شواہد وثبوتوں کو مدنظررکھتے ہوئے عدالت اپنا فیصلہ دے گی۔

مولانامدنی نے یہ بھی کہا کہ بلاشبہ اس مقدمہ سے مسلمانوں اورملک کے تمام انصاف پسند لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں، کیونکہ یہ تنہاایک مسجد کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے سیکولر اورجمہوری کردارسے جڑاہوا معاملہ ہے اور آئین وقانون کی بالادستی کا بھی ہے کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ کس طرح مسجد کو منہدم کیا گیا ۔

خیال رہے کہ 5 دسمبر 2017سے بابری مسجد ملکیت کے مقدمہ میں ہوئی بحث کے بعد آج چیف جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والی بینچ نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں یہ وضاحت کردی کہ اسماعیل فاروقی فیصلہ کا مقدمہ پر کوئی اثرنہیں پڑے گا ، دوسرے یہ کہ نماز مسجد میں اداکرنا ضروری نہیں ہے اس کا اس مقدمہ سے کوئی سروکارنہیں ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اشوک بھوشن نے اپنے فیصلہ میں یہ باتیں کہیں ہیں جب کہ بینچ کے دوسرے جج جسٹس عبدالنظیرنے دونوں فاضل ججوں کے فیصلوں سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اگرڈاکٹر اسماعیل فاروقی کے فیصلوں میں ہونے والے غلطیوں پر نظرثانی ہوجاتی تو اچھاتھا ۔

First published: Sep 27, 2018 07:21 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading