ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ میں مرکز کی عرضی- مندر بنانے کے لئے رام جنم بھومی نیاس کو دیا جائے زمین کا حصہ

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ایودھیا میں صرف 2.77 ایکڑ زمین پر تنازعہ ہے اور باقی زمین پر کوئی تنازعہ نہیں ہے، لہذا زمین کا کچھ حصہ رام جنم بھومی نیاس کو دیا جائے

  • Share this:
سپریم کورٹ میں مرکز کی عرضی- مندر بنانے کے لئے رام جنم بھومی نیاس کو دیا جائے زمین کا حصہ
آئین کی نظر میں سبھی آستھائیں (عقیدے) یکساں ہیں۔ کورٹ آستھا نہیں ثبوتوں پرفیصلہ دیتا ہے۔

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی لگائی ہے کہ ایودھیا میں 67 ایکڑ زمین حکومت کی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ایودھیا میں صرف 2.77 ایکڑ زمین پر تنازعہ ہے اور باقی زمین پر کوئی تنازعہ نہیں ہے، لہذا زمین کا کچھ حصہ رام جنم بھومی نیاس کو دیا جائے۔


مرکزی حکومت نے اپنی درخواست میں کہا کہ 67 ایکڑ زمین حکومت نے تحویل میں لی تھی جس پر سپریم کورٹ نے موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے کہا کہ 2.77 ایکڑ متنازعہ زمین کے علاوہ باقی زمین پر کوئی تنازعہ نہیں ہے، لہذا اس پر موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔


مرکزی حکومت نے آگے کہا کہ تحویل میں لی گئی 67 ایکڑ زمین میں سے 48 ایکڑ رام جنم بھومی نیاس کا ہے۔ اس میں سے 41 ایکڑ زمین کلیان سنگھ حکومت نے 1991 میں انہیں دی تھی۔ باقی انہوں نے خریدی تھی۔ وہیں، باقی کی 19 ایکڑ زمین حکومت کی ہے کیونکہ اس کے زیادہ تر مالکان نے حکومت سے معاوضہ لے لیا ہے۔


وہیں، اس معاملے میں فریق اقبال انصاری نے کہا کہ’’ انہیں حکومت کی اس درخواست سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، 'بابری مسجد کے علاوہ حکومت زمین کا کوئی بھی دوسرا حصہ لینے کے لئے آزاد ہے۔ ہمیں حکومت کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں ہے‘‘۔

وہیں، رام للا کے پجاری آچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ تنازعہ صرف 2.77 ایکڑ زمین پر ہے، لیکن جب تک اس زمین کا نمٹارا نہیں ہوجاتا تب تک رام مندر نہیں بن پائے گا۔

 
First published: Jan 29, 2019 11:46 AM IST