உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کون ہیں مجاہد آزادی احمد اللہ شاہ فیض آبادی جن پر رکھا جائے گا ایودھیا میں بننے والی مسجد کا نام

    Maulvi Ahmadullah Shah Faizabadi)

    Maulvi Ahmadullah Shah Faizabadi)

    ایودھیا (Ayodhya) کے دھنی پور گاؤں میں بننے والی مسجد (Mosque) اور اسپتال کے احاطے کا نام مجاپد آزادی اور انقلابی مولوی احمداللہ شاہ فیض آبادی (Maulvi Ahmadullah Shah Faizabadi) کے نام ہر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      ایودھیا (Ayodhya) کے دھنی پور گاؤں میں بننے والی مسجد (Mosque) اور اسپتال کے احاطے کا نام مجاپد آزادی اور انقلابی Freedom Fighter مولوی احمداللہ شاہ فیض آبادی (Maulvi Ahmadullah Shah Faizabadi) کے نام ہر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ احمد اللہ شاہ فیض آبادی کی موت 164 سال پہلے ہوئی تھی۔

      ہند اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن (IICF) کے مطابق ، احمد اللہ شاہ فیض آبادی نے 1857 کے انقلاب کے بعد اودھ کو برطانوی حکومت سے آزاد کرانے کے لئے دو سال سے زیادہ کی تحریک آزادی کی قیادت کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ IICF نے دھنی پور گاؤں میں بننے والی مسجد ، اسپتال ، میوزیم ، ریسرچ سینٹر اور کمیونٹی کچن سمیت تمام اسکیمیں اپنے نام سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      IICF کے سکریٹری اطہر حسین نے بتایا کہ ان کی یوم شہادت پر ہی سبھی منصوبوں کی شروعات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنوری میں ہم نے مولوی فیض آبادی کو ریسرچ سینٹر فیض آبادی کے لئے وقف کیا جو ہندو ۔ مسلم بھائی چارے کی علامت تھے۔ آزادی کی لرائی کے 160 سال بعد بھی احمد اللہ شاہ فیض آبادی کو ہندستانی تاریخ میں ابھی تک وہ حق نہیں ملا ہے۔ مسجد سرائے ، فیض آباد، جو 1857 کی بغاوت کے دوران مولوی کا ہیڈکوارٹر تھی وہیں صرف زندہ عمارت ہے جو ان کے نام کو محفوظ کرتی ہے۔

      حسین بتاتے ہیں، 'برطانوی ایجنٹ نے جب انہیں مار دیا تو ان کے سر اور دھڑ کو مختلف جگہوں پر دفن کیا گیا تاکہ لوگ ان کی قبر کو مقبرہ نہ بناسکیں۔ مسجد کے ٹرسٹی کیپٹن افزال احمد خان نے بتایا کہ انگریزوں میں مولوی فیض آبادی کا خوف واضح طور پر ظاہر تھا۔ ان کی موت کے بعد بھی انہیں ڈر تھا کہ جس طرح سے وہ زندہ رہتے ہوئے انگریزوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے کہیں مرنے کے بعد بھی ایسا نہ ہو جائے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جارج بروس میلیسن اور تھامس سیٹن جیسے برطانوی عہدیداروں نے ان کی ہمت اور بہادری کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے لیکن آج بھی اسکول اور کالج کے نصاب میں انہیں کوئی جگہ نہیں مل پائی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: