உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جل نگم معاملے میں اترپردیش کے سابق وزیر محمد اعظم خان سمیت 5 کے خلاف ایف آئی آر درج

    سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان: فائل فوٹو۔

    سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان: فائل فوٹو۔

    جل نگم بھرتی گھوٹالے میں سابق وزیر اور سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگئی ہے۔ اعظم کے خلاف جعل سازی، دھوکہ دہی، بدعنوانی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔

    • Share this:
      لکھنو: جل نگم بھرتی گھوٹالے میں سابق وزیر اور سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگئی ہے۔ اعظم کے خلاف جعل سازی، دھوکہ دہی، بدعنوانی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔ وہیں اعظم کان کے ساتھ سابق شہری ترقیاتی سکریٹری ایس پی سنگھ، او ایس ڈی آفاق، پی کے آسودا نی اور چیف انجینئر کے خلاف بھی معاملہ درج کیا گیاہے۔

      دراصل جل نگم بھرتی گھوٹالے میں سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈر اعظم خان اور اس وقت کے ایم ڈی پی کے آسودانی ودیگر کے خلاف ایس آئی ٹی نے یوگی حکومت کو رپورٹ سونپ دی تھی۔ رپورٹ میں اعظم خان اور آشودانی ودیگر پر مقدمہ دراج کرانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ انتظامیہ سے اجازت ملتے ہی ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی کی گئی۔

      دوسری جانب معاملے میں اعظم خان کا کہناہے کہ عدالتوں کے فیصلے ان کے حق میں ہیں، لیکن سیاسی لیڈروں کا فیصلہ ان جیسے لوگوں کو پریشان کرنے کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوکریاں دینے کے جرم میں اگر جیل جانا پڑتا ہے تو جائیں گے۔ اعظم خان نے کہاکہ نوکری دی ہے بھائی، کوئی بدعنوانی کا چارج نہیں ہے، نہ ہمارے اوپر اور نہ ہی اس وقت کے کسی افسر کے اوپر۔

      انہوں نے کہاکہ نوکریاں دیں اور اس طرھ کی دی ہیں کہ ہائی کورٹ نے بھی جوائن کرانے کے احکامات دیئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں سرکار اپیل کے لئے گئی، جہاں اپیل خارج ہوگئی۔ سماجوادی لیڈر نے کہاکہ عدالتوں کا فیصلہ یہ ہے، لیکن سیاسی لیڈروں کا فیصلہ ہمارے جیسے لوگوں کو  پریشان کرنے کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوکریاں دینے کے جرم میں اگر جیل جانا پڑتا ہے تو جائیں گے۔

      واضح رہے کہ اکھلیش حکومت میں جل نگم میں 1300 عہدوں پر بھرتی ہوئی تھی۔ اعظم خان جل نگم کے چیئرمین تھے۔ اپنی رپورٹ میں ایس آئی ٹی نے کہا ہے کہ اعظم خان کے خلاف بدعنوانی سمیت کئی الزامات کے مناسب ثبوت ہیں۔ ایس آئی ٹی انچارج آلوک پرساد نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقدمہ چلانے کے لئے مناسب ثبوت ہیں۔

      بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ  نے کہا تھا کہ اکھلیش کے دوراقتدار میں ہوئی ہر سرکاری محکمہ کی بھرتیوں کی جانچ کرائیں گے۔ جل نگم میں ہوئی بھرتیوں کی جانچ گذشتہ ستمبر ماہ میں ایس آئی ٹی کو دی گئی تھی۔ اس معاملے میں اب تک سابق شہری ترقی سکریٹری ایس پی سنگھ کے بیان بھی درج ہوچکے ہیں۔ آئی اے ایس ایس پی سنگھ اب ریٹائر ہوچکے ہیں۔ وہیں اعظم خان کے او ایس ڈی رہے آفاق بھی اپنا بیان درج کراچکے ہیں۔

      اس معاملے میں 122اسسٹنٹ انجینئر کو سرکار برخاست کرچکی ہے، اس سے پہلے 22 ستمبر کو ایس آئی ٹی کا جل نگم کے ہیڈ کوارٹرس پر چھاپہ پڑا تھا۔ 5 دسمبر کو اس وقت کے ایم ڈی پی کے آسودانی سے پوچھ تاچھ ہوئی تھی۔ اب تک اس معاملے میں 8 افسروں کے بیان ایس آئی ٹی درج کرچکی ہے۔

       
      First published: