உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اعظم خا ں ، اویسی اوربخاری ملاسکتے ہیں ہاتھ

    دہلی : اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔

    دہلی : اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔

    دہلی : اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      دہلی : اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔ ایک طرف ایس پی ، بی ایس پی ، بی جے پی اور کانگریس حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں ، وہیں مسلم لیڈروں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ کو منتشر ہونے سے بچایا جاسکے ۔ اس سلسلہ میں اعظم خان ، اویسی اور امام بخاری کی ایک دوسرے سے ہاتھ ملانےکی خبریں آرہی ہیں ۔
      مسلم ووٹ بینک پرسیاسی روٹیاں سینکنےوالی سیکولرپارٹیوں کومنہ توڑجواب دینے اور اپنے سیاسی وجود کو منوانے کے لئےاب کچھ مسلم لیڈران اپنےتمام اختلافات کو فراموش کرتے ہوئےہاتھ ملانےکی تیاری میں ہیں۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات2017 میں مظبوطی کےساتھ میدان میں اترنےکی تیاری میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کےصدراسدالدین اویسی ریاست کی مسلم لیڈرشپ کو اپنےساتھ لانےکی جدوجہد کررہےہیں ۔ وہیں شاہی امام سید احمدبخاری جہاں کم ازکم مشترکہ پروگرام کےساتھ اویسی کےساتھ آنے کیلئے تیار ہورہے ہیں، وہیں دوسری جانب سماجوادی پارٹی سےناراض چل رہےاترپردیش کے کابینی وزیر محمد اعظم خان بھی ایم آئی ایم کی کمان سنبھال سکتےہیں۔
      یوں تو امام بخاری اوراعظم خان ایک دوسرے کےشدید مخالف ہیں اور دونوں کی طرف سےایک دوسرے پر سیاسی تنقید بھی ہوتی رہی ہے، لیکن اس وقت سماجوادی پارٹی سے دونوں کافی ناراض ہیں۔ امام بخاری اس لئےناراض ہیں کہ ملائم سنگھ نےسات لوگوں کوراجیہ سبھا کا امیدوار بنایا ، لیکن انہیں پورے یوپی سےایک بھی مسلم چہرہ دکھائی نہیں دیا جبکہ اعظم خان امرسنگھ کوراجیہ سبھا بھیجے جانے سے ناراض ہیں۔
      قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں جب سماجوادی پارٹی کی پارلیمانی بورڈکی میٹنگ چل رہی تھی اوراس میں امرسنگھ کوپارٹی میں شامل کرنےکی بات کہی گئی تھی ، تواعظم خان ناراض ہوکرمیٹنگ سےچلے گئےتھے ۔ یہی نہیں گذشتہ ہفتہ انہوں نے پارٹی کےتمام عہدوں سےاستعفی دے دیا تھا ، لیکن استعفی منظورنہیں کیا گیا ۔تاہم یہ صاف ہےکہ اعظم خان پارٹی کی موجودہ کارکردگی سےخوش نہیں ہیں ۔
      First published: