உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نہیں جلے بابری مسجد کے کاغذات، اسمارٹ سٹی کے بجائے اسمارٹ گاوں بنائے جائیں: اعظم

    لکھنؤ۔  اترپردیش کے اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اعظم خان نے آج دعوی کیا ہے کہ سینٹرل سنی وقف بورڈ کے دفتر میں لگی آگ سے بابری مسجد سے متعلق کاغذات کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    لکھنؤ۔ اترپردیش کے اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اعظم خان نے آج دعوی کیا ہے کہ سینٹرل سنی وقف بورڈ کے دفتر میں لگی آگ سے بابری مسجد سے متعلق کاغذات کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    لکھنؤ۔ اترپردیش کے اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اعظم خان نے آج دعوی کیا ہے کہ سینٹرل سنی وقف بورڈ کے دفتر میں لگی آگ سے بابری مسجد سے متعلق کاغذات کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنؤ۔  اترپردیش کے اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اعظم خان نے آج دعوی کیا ہے کہ سینٹرل سنی وقف بورڈ کے دفتر میں لگی آگ سے بابری مسجد سے متعلق کاغذات کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔



      مسٹر خان نے آج یہاں اخباری نمائندوں سے کہا کہ بورڈ کے دفتر میں ہوئی آتشزدگی کے اسباب کی چھان بین کی جارہی ہے آگ خودبخود لگی ہو تو کوئی بات نہیں لیکن اس میں اگر کوئی سازش پائی گئی تو قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے ضروری کاعذات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی جمع ہیں اس لئے فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔


      اسمارٹ سٹی کے بجائے اسمارٹ گاوں بنائے جائیں



      وہیں دوسری طرف اعظم خان نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’اسمارٹ سٹی‘ یوجنا پر سوال کھڑا کرتے ہوئے آج کہا کہ اس سے گاؤں سے شہروں کی طرف ہجرت میں مزید اضافہ ہوگا اس لئے بہتر ہوتا کہ اسمارٹ گاؤں بنائے جاتے۔



      ریاستی شہری ترقی اور اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اعظم خان نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ مسٹر مودی کےاسمارٹ سٹی بنانے کے منصوبہ سے شہروں کی جانب ہجرت میں مزید اضافہ ہوگا، اس لئے ’اسمارٹ سٹی‘ کے بجائے ’اسمارٹ گاؤں‘ بنانے کی پہل ہونی چاہئے۔
      مسٹر خان نے کہاکہ جتنی تیزی سے لوگ گاؤں سے شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں اس سے شہروں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ شہروں کی اپنی گنجائش ہوتی ہے، اس لئے ہجرت ہر حال میں روکا جانا چاہئے۔ شہروں کے بجائے گاؤں پر توجہ دینا چاہئے۔ شہروں کی ترقی سے گاؤں ہی ختم ہوجائیں گے۔



      انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی کی ترقی کیلئے ریاستی حکومت نے کافی پیسہ خرچ کیا ہے لیکن مرکز سے ایک بھی پیسہ نہیں ملا۔ مسٹر خان نے کہاکہ ان کے محکمہ کیلئے ملنے والے پیسے میں مرکز مسلسل کٹوتی کر رہا ہے۔مسٹر خان نے کہاکہ حال ہی میں کولمبیا میں ہوئی میٹنگ میں بھی انہوں نے گاؤں کو اسمارٹ بنانے پر زور دیا تھا۔

      First published: