உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسپیکر پر ذاتی تبصرہ تنازع : بات نہیں مانی تو جیل جاسکتے ہیں اعظم خان ، پارلیمنٹ کی رکنیت بھی ہوسکتی ہے ختم ، عدالت سے بھی نہیں ملے گی کوئی راحت

    اعظم خان

    اعظم خان

    لوک سبھا میں اسپیکر کی کرسی پر بیٹھیں بی جے پی ممبر پارلیمنٹ رما دیوی کے خلاف متنازع تبصرہ سماجوادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اعظم خان کو کافی مہنگا پڑسکتا ہے ۔

    • Share this:
      لوک سبھا میں اسپیکر کی کرسی پر بیٹھیں بی جے پی ممبر پارلیمنٹ رما دیوی کے خلاف متنازع تبصرہ سماجوادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اعظم خان کو کافی مہنگا پڑسکتا ہے ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ رما دیوی نے اعظم خان کو پوری مدت کار یعنی اگلے پانچ سال تک لوک سبھا سے معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ کئی خواتین ممبران پارلیمنٹ نے بھی اعظم خان کے بیان کی شدید تنقید کی ہے اور اسپیکر اوم برلا سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوک سبھا اسپیکر اعظم خان کو کیسے اور کتنی سزا دے سکتے ہیں ۔

      لوک سبھا میں پیش اعظم خان کے خلاف کارروائی کی تحریک آج اتفاق رائے سے پاس ہوگئی اور ان کے خلاف کارروائی کیلئے اسپیکر کو اختیار دے دیا گیا ۔ اسپیکر اوم برلا کی قیادت میں منعقدہ میٹنگ کے دوران اعظم خان کو ایوان کے سامنے بلا شرط معافی مانگنے کیلئے کہا گیا ہے ۔ اگر وہ معافی نہیں مانگیں گے ، تو اسپیکر ان کے خلاف کارروائی کیلئے آزاد ہیں ۔

      اگر اعظم خان اسپیکر کے حکم کے مطابق پارلیمنٹ میں معافی نہیں مانگتے ہیں تو لوک سبھا اسپیکر انہیں اگلے پانچ سال یعنی پوری مدت کار کیلئے معطل کرسکتے ہیں ۔ یہی نہیں ، اسپیکر ان کی لوک سبھا رکنیت کو بھی رد کرسکتے ہیں ۔ آئین کے ایکسپرٹ ڈاکٹر سبھاش کشیپ نے بتایا کہ اس کیلئے علاوہ لوک سبھا اسپیکر اعظم خان کو سیشن کی مدت یعنی سات اگست تک کیلئے جیل بھی بھیج سکتے ہیں ۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ انہیں سات اگست تک کیلئے ہی جیل بھیجا جائے ۔ یہ پوری طرح سے لوک سبھا اسپیکر پر منحصر ہے کہ وہ انہیں کب تک کیلئے جیل بھیجیں۔



      اعظم خان جاسکتے ہیں عدالت ، لیکن راحت کی امید نہیں

      ڈاکٹر کشیپ کے مطابق اعظم خان لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے ان کو دی جانے والی کسی بھی سزا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرسکتے ہیں ، لیکن ڈاکٹر کشیپ کہتے ہیں کہ عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی ہے ۔ دراصل کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے خلاف خراب رویہ کی وجہ سے ہوئی کارروائی کے تحت سزا دینا لوک سبھا اسپیکر کا خصوصی اختیار ہے ، لہذا اس معاملہ میں اعظم خان کو عدالت سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں ہے ۔

      قابل ذکر ہے کہ اس معاملہ میں حکمراں پارٹی ہی نہیں ، اپوزیشن پارٹیوں کی خواتین ممبران پارلیمنٹ بھی اعظم خان کے خلاف ہیں ۔ زیادہ تر خواتین ممبران پارلیمنٹ نے اعظم خان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ دراصل لوک سبھا میں جمعرات کو تین طلاق بل پر بحث کے دوران اعظم خان نے اسپیکر کی کرسی پر بیٹھیں رما دیوی پر ذاتی اور متنازع تبصرے کئے تھے ، جس کی وجہ سے لوک سبھا میں کافی ہنگامہ بھی ہوا تھا ۔
      First published: