உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Babri Masjid: بابری مسجد انہدام کے قصورواروں کو ملے گی سزا؟

    Youtube Video

    سپریم کورٹ نےنونومبر دوہزار انیس کو ایودھیا میں انیس سو اونچاس میں مسجد میں مورتیاں رکھے جانے اور مسجد کی شہادت کو غیر قانونی فعل قراردیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا تھا لیکن سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ میں رام مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا۔

    • Share this:
      اترپردیش کے شہر ایودھیا میں انتیس سال قبل اتوار چھ دسمبر انیس سو بانوے کو تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نےنونومبر دوہزار انیس کو ایودھیا میں انیس سو اونچاس میں مسجد میں مورتیاں رکھے جانے اور مسجد کی شہادت کو غیر قانونی فعل قراردیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا تھا لیکن سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ میں رام مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا۔
      واضح رہے کہ ممبئی فسادات کی تحقیقات کرنے والے بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس بی این سری کرشنا کمیشن نے بھی مسجد میں انیس سو اونچاس میں مورتیاں رکھنا اور انیس سو بانوے میں مسجد کے انہدامی کاروائی کو غیر قانونی قراردیتےہوئے بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا کو مسجد کی مسِماری کے لیے ذمہ دار قراردیاتھا۔
      اس کے باوجود سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بابری مسجدانہدام معاملے میں ایل کے اڈوانی ،اوما بھارتی،مرلی منوہرجوشی سمیت تمام ملزمین کو بری کردیا ۔ سی بی آئی کورٹ کے اس فیصلے کی آج بھی مخالفت کی جاتی ہے۔کچھ سماجی تنظیمیں آج بھی بابری مسجد انہدام معاملے کے قصورواروں کو سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اسی مطالبے کو لیکر آج دہلی کے جنتر منتر پرسماجی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

      آج بابری مسجد انہدام کی برسی ہے۔آج ہی کے دن انیس سو بانوے میں بابری مسجد کوکارسیوکوں نے شہید کردیا تھا۔اترپردیش سمیت ملک کے حساس علاقوں میں آج الرٹ ہے۔ اتر پردیش کے ڈی جی پی نے تمام اضلاع کے پولیس افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی پروگرام کے انعقاد کی منظوری نہ دیں۔ انہیں اضافی چوکس رہنے کا حکم دیا گیاہے۔ اس کے ساتھ ہی عہدیداروں کو سیکورٹی کے وسیع انتظامات کرنے کو کہا گیا ہے۔ دوسری جانب اے ڈی جی لاءآرڈر پرشانت کمار نے کہا ہے کہ چھ دسمبر کو روایت سے ہٹ کر کوئی تقریب منعقد نہیں کی جائے گی۔ متھرا معاملے میں بڑے لیڈروں نے فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دو دن پہلے تک ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ لگاتار ٹویٹ کر رہے تھے، لیکن اب ان کا ٹویٹ آنا بھی بند ہو گیا ہے۔ یہاں ہندو مہاسبھا نے منصوبہ بدل دیا ہے۔ مہاسبھا کی جانب سے اب دہلی میں علامتی جل ابھیشیک کیا جائے گا۔
      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: