ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اجودھیا تنازع : مذہبی جذبات اور سیاسی دلیلیں نہیں سنی جائیں گی ، پڑھیں : سپریم کورٹ نے اور کیا کیا کہا؟ 

اہم دستاویزات کے ترجمہ کا کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے بابری مسجد-رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ کی سماعت 14 مارچ تک کے لئے آج ملتوی کر دی۔

  • Agencies
  • Last Updated: Feb 08, 2018 11:02 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اجودھیا تنازع  : مذہبی جذبات اور سیاسی دلیلیں نہیں سنی جائیں گی ، پڑھیں : سپریم کورٹ نے اور کیا کیا کہا؟ 
فائل فوٹو

نئی دہلی : اہم دستاویزات کے ترجمہ کا کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے بابری مسجد-رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ کی سماعت 14 مارچ تک کے لئے آج ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النظیر کی بنچ نے تمام فریقوں کو انگریزی ترجمہ کےساتھ دستاویزات کی کاپیاں جمع کرانے کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا۔

قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی بینچ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کررہی ہے۔ 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اپنے فیصلے میں 2.77 ایکڑ متنازعہ زمین کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف 14 فریقوں نے عدالت عظمی میں عرضی دائر کی ہے۔

سپریم کورٹ نے کیا کیا کہا ؟ 

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس معاملہ کو صرف اراضی کے تنازعہ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ عقیدے، مذہبی جذبات اور سیاسی دلیلیں نہیں سنی جائیں گی۔

عدالت عظمی نے کہا کہ اس معاملے کے اصل فریقوں : سنی وقف بورڈ ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے علاوہ فی الحال کسی دوسرے فریق کو نہیں سنا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملہ سے متعلق جو بھی کاغذی کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے، اسے دو ہفتے میں مکمل کیا جائے۔
عدالت عظمی نے رجسٹرار کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ تمام فریقوں کو ان ویڈیو کیسیٹ کی کاپیاں دستیاب كرا ئے جو الہ آباد ہائی کورٹ کے دستاویزات کا حصہ رہے ہیں۔
عدالت عظمی نے کہا کہ کیس سے وابستہ فوت پاچکے افراد کے ناموں کو ہٹایا جائے ۔ اب ہاشم انصاری کا نام ہٹ جائے گا ۔
سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران گیتا اور رامائن کا انگریزی ترجمہ مانگا ہے۔ گیتا اور رامائن عدالت میں دستاویز کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔
یومیہ سماعت کو لے کر سپریم کورٹ نے کچھ نہیں کہا ہے ۔ تاہم عدالت نے کہا کہ ایک مرتبہ ہم معاملہ کی سماعت شروع کریں گے تو ختم کرکے ہی چھوڑیں گے۔

First published: Feb 08, 2018 10:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading