ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جے این یو کے طلبہ کی گرفتاری کے خلاف کشمیر میں ہڑتال ، ریل سروس معطل

سری نگر: جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علموں کی گرفتاری، کشمیری طلبہ کے خلاف نئی دہلی پولیس کے مبینہ کریک ڈاؤن اور دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ایس اے آر گیلانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائیر کرانے کے خلاف وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز بذرگ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک اور دیگر کچھ علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 27, 2016 05:17 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جے این یو کے طلبہ کی گرفتاری کے خلاف کشمیر میں ہڑتال ، ریل سروس معطل
سری نگر: جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علموں کی گرفتاری، کشمیری طلبہ کے خلاف نئی دہلی پولیس کے مبینہ کریک ڈاؤن اور دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ایس اے آر گیلانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائیر کرانے کے خلاف وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز بذرگ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک اور دیگر کچھ علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔

سری نگر: جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علموں کی گرفتاری، کشمیری طلبہ کے خلاف نئی دہلی پولیس کے مبینہ کریک ڈاؤن اور دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ایس اے آر گیلانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائیر کرانے کے خلاف وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز بذرگ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک اور دیگر کچھ علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔


ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہرین کی جانب سے ریلوے املاک کو نقصان پہنچانے کے خدشے کے پیش نظر وادی میں ریل سروس دن بھر معطل رہی جبکہ کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے بیشتر علیحدگی پسند لیڈران بشمول حریت کانفرنس (گ) جنرل سکریٹری شبیر احمد شاہ و صوبائی صدر نعیم احمد خان اور جے کے ایل ایف چیرمین محمد یاسین ملک کو تھانہ یا خانہ نظر بند رکھا گیا۔


سری نگر کے سیول لائنز کے حساس ترین علاقہ مائسمہ جہاں جے کے ایل ایف کا ہیڈکوارٹر اور اس کے چیرمین کی رہائش گاہ واقع ہے، کی طرف جانے والی تمام سڑکوں بشمول بڈشاہ چوک اور حاجی مسجد سڑک کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا۔  سیکورٹی فورسز ہفتہ کی صبح سے ہی کسی بھی شہری کو مائسمہ علاقہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آواجاہی معطل رہی۔


تاہم سری نگر کے سیول لائنز اور بالائی شہر میں اکا دکا مسافر و نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ بیشتر ٹیوشن اور کوچنگ سنٹروں نے ہڑتال کے پیش نظر آج تعطیل کا اعلان کر رکھا تھا۔  کشمیر یونیورسٹی نے آج لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے تھے۔ اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق اس اور جنوبی کشمیر کے دیگر قصبہ جات میں ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔ جنوبی کشمیر کے قصبوں میں ٹریفک کی آمدورفت بند رہی جبکہ سرکاری و دیگر دفاتر میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔

First published: Feb 27, 2016 05:17 PM IST