உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Baramulla: بارہمولہ میں پولیس سروس میلا 2022 کاانعقاد، سائبر سیفٹی سےمتعلق آگاہی پردیاگیازور

    محمد رئیس بھٹ نے کہا کہ ہم کچھ مسائل کو موقع پر ہی حل کرنے میں کامیاب رہے

    محمد رئیس بھٹ نے کہا کہ ہم کچھ مسائل کو موقع پر ہی حل کرنے میں کامیاب رہے

    ایس ایس پی نے بتایا کہ ہیروئن اور براؤن شوگر جان لیوا ہیں اور یہ منشیات کچھ ایجنٹ سرحد پار بھیج رہے ہیں۔ شرکاء جاننا چاہتے تھے کہ کیا لوگوں کو منشیات کی تجارت سے دور رکھنے کے لیے کوئی فائدہ مند روزگار موجود ہے۔

    • Share this:
      جموں و کشمیر کے شہر بارہمولہ (Baramulla) میں ہفتے کے روز بڑے پیمانے پر جموں و کشمیر کی جانب سے پولیس سروس میلا 2022 کا اانعقاد عمل میں آیا۔ جس میں مقامی لوگوں نے بڑے پیمانے پر شرکت کی۔ پروگرام میں جموں و کشمیر پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ شرکا میں نوجوان بھی شامل تھے۔ یہ لوگ بڑے مسائل کے فوری حل کی توقع کرتے ہوئے پولیس افسران کو ایک جگہ پر جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

      بارہمولہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد رئیس بھٹ (Mohammad Rayees Bhat) نے نیوز 18 کو بتایا کہ سڑکوں، بیت الخلاء، منشیات کی لعنت پر قابو پانے اور ٹریفک جام سے متعلق شکایات اٹھائی گئیں۔ کئی افراد پولیس کی طرف سے کردار کی تصدیق، پاسپورٹ کی تصدیق، سروس کی تصدیق (character verification)، ایس آر او کیسز، اسٹیبلشمنٹ کے مسائل، خواتین ڈیسک اور سائبر سیفٹی سے متعلق آگاہی سے حاصل کی۔

      محمد رئیس بھٹ نے کہا کہ ہم کچھ مسائل کو موقع پر ہی حل کرنے میں کامیاب رہے، جبکہ دیگر مسائل کو جلد ہی حل کیا جائے گا۔ بھٹ نے کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال، سائبر فراڈ اور فِسنگ پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا اور آراء کا تبادلہ کیا گیا۔ جواب توقع سے بہتر تھا۔ ہم مزید بات چیت کر رہے ہیں اور کاغذی کارروائی سے آگے بڑھیں گے۔

      انہوں نے کہا کہ شرکاء نے نشہ کرنے والوں اور منشیات کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ وادی میں نشہ آور مادوں کی اسمگلنگ اور نوجوانوں کی طرف سے حال ہی میں ہیروئن اور براؤن شوگر کے استعمال میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہسپتال کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے چھ سے سات سال میں منشیات لینے والوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      IND-W vs PAK-W: ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو دھو ڈالا، مندھانا نے مچایا کہرام

      ایس ایس پی نے بتایا کہ ہیروئن اور براؤن شوگر جان لیوا ہیں اور یہ منشیات کچھ ایجنٹ سرحد پار بھیج رہے ہیں۔ شرکاء جاننا چاہتے تھے کہ کیا لوگوں کو منشیات کی تجارت سے دور رکھنے کے لیے کوئی فائدہ مند روزگار موجود ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Lebanon: لبنان معاشی دیوالیہ کا شکار! روٹی کیلئے لوگوں کا لمبی لمبی قطاروں میں انتظار

      انہوں نے کہا کہ دوبارہ بحالی اور روزگار کے متبادل طریقوں پر بھی بات چیت کی گئی، ساتھ ہی ان علاقوں کے حل کے ساتھ جن میں منشیات سے متعلقہ مسائل ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: