اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پی ایم مودی سے متعلق بی بی سی کی متنازعہ دستاویزی فلم، طالب علموں پرمبینہ حملہ، جانیےتفصیل

    Youtube Video

    آئشی گھوش گھوش نے کہا کہ ہم نے ایک شکایت درج کرائی اور پولیس نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کی جانچ کرے گی۔ ہم نے ملوث تمام افراد کے نام اور تفصیلات بتا دیں۔ فی الحال ہم احتجاج ختم کر رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (JNU) کے کئی طلبہ نے منگل کی دیر رات نئی دہلی کے وسنت کنج پولیس اسٹیشن کی طرف مارچ کیا جنہوں نے مبینہ طور پر پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف شکایت درج کرائی جب وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور گجرات فسادات پر بی بی سی کی دستاویزی فلم دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ انھیں موبائل فونز کی اسکریننگ کی اجازت نہیں دی گئی۔

      جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی صدر آئشی گھوش نے الزام لگایا کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) نے موبائل فون کی اسکریننگ کے دوران پتھراؤ کیا اور پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ طلبہ تنظیم ہے۔

      بی بی سی کی دستاویزی فلم پر جے این یو میں ہنگامہ آرائی پر تازہ ترین معلومات یہ ہیں:

      کئی طلبہ ’انڈیا: دی مودی کیوسشن (India: The Modi Question) کی اسکریننگ کے لیے جے این یو کے طلبہ یونین کے دفتر میں جمع ہوئے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے تقریب کو روکنے کے لیے بجلی اور انٹرنیٹ کاٹ دیا۔ اس دوران پتھراؤ کیا گیا بعد میں احتجاج بھی ہوا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      منگل کی رات میں ’انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اور جے این یو انتظامیہ کے خلاف احتجاجی طلباء نے پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف شکایت درج کرانے کے لیے وسنت کنج پولیس اسٹیشن تک مارچ کیا۔

      آئشی گھوش گھوش نے کہا کہ ہم نے ایک شکایت درج کرائی اور پولیس نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کی جانچ کرے گی۔ ہم نے ملوث تمام افراد کے نام اور تفصیلات بتا دیں۔ فی الحال ہم احتجاج ختم کر رہے ہیں۔ ہم جے این یو پراکٹر آفس میں بھی شکایت درج کرائیں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: