ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بی سی سی آئی صدر انوراگ ٹھاکر جاسکتے ہیں جیل ، سپریم کورٹ نے دی یہ وارننگ

چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے جمعرات کو کہا کہ اگر ٹھاکر پر عدالت میں جھوٹے ثبوت پیش کرنے کے الزام ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 15, 2016 10:11 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بی سی سی آئی صدر انوراگ ٹھاکر جاسکتے ہیں جیل ، سپریم کورٹ نے دی یہ وارننگ
چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے جمعرات کو کہا کہ اگر ٹھاکر پر عدالت میں جھوٹے ثبوت پیش کرنے کے الزام ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے۔

نئی دہلی: لوڈھا کمیٹی کی سفارشات کو لے کر جاری تنازعہ میں ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر انوراگ ٹھاکر کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے جمعرات کو کہا کہ اگر ٹھاکر پر عدالت میں جھوٹے ثبوت پیش کرنے کے الزام ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ عدالت عظمی نے رفیق انصاف گوپال سبرامنیم کی دلیلیں سننے کے بعد پہلی نظر میں انوراگ کو اس کا مجرم پایا۔ممکن ہے کہ عدالت اس سے متعلق فیصلہ بھی سنائے۔عدالت نے رفیق انصاف سے پوچھا تھا کہ ٹھاکر نے اس معاملے میں جھوٹ بولا ہے یا نہیں۔سبرامنیم نے اپنے جواب میں کہا کہ بی سی سی آئی صدر نے جھوٹ بولا ہے۔

ٹھاکر نے عدالت عظمی میں پیش حلف نامے میں کہا تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے صدر ششانک منوہر سے صرف یہ کہا تھا کہ اس معاملے پر ان کا موقف کیا ہوتا جب وہ (منوہر) بی سی سی آئی صدر تھے جبکہ منوہر اس بات سے انکار کر چکے ہیں۔ عدالت عظمی نے کہاکہ اگر آپ جھوٹے ثبوت کے الزامات سے بچنا چاہتے ہیں، تو آپ کو معافی مانگنی چاہئے۔آپ کورٹ کی سماعت میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اظہار رائےکی آزادی آپ کو عدالت کے فیصلے سے متفق نہیں ہونے کا حق دیتی ہے، اس کو نافذ ہونے سے روکنے کا حق آپ کے پاس نہیں ہے۔انہوں نے بی سی سی آئی کے وکیل کپل سبل سے دو ٹوک الفاظ میں کہاکہ آپ کےموکل (انوراگ ٹھاکر) کو جیل چلے جانا چاہئے۔ سماعت کے بعد عدالت نے بی سی سی آئی سے کہا کہ وہ ایک ہفتے میں منتظمین کے پینل کے لئے نام پیش کرے ۔ اس معاملے میں کئی تاریخیں آگے بڑھ چکی ہیں اور عدالت نے اپنا آخری فیصلہ نہیں سنایا ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس لوڈھا کمیٹی نے بی سی سی آئی کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی سفارشات کی ہیں۔لوڈھا پینل نے اپنی پوزیشن رپورٹ میں کہا تھا کہ بی سی سی آئی کے نااہل عہدیداروں کو ہٹا کر سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئے کو سپروائزر مقرر کیا جائے تاکہ وہ بورڈ کے بزنس آپریشن کو دیکھ سکیں۔بی سی سی آئی ان سفارشات کو لاگو کرنے کو تیار نہیں ہے۔ بی سی سی آئی اور اس کی ذیلی کرکٹ ایسوسی ایشن نے لوڈھا کمیٹی کی تمام سفارشات کو ماننے میں اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔سفارشات نہ ماننے تک بی سی سی آئی کی طرف سے ریاستی کرکٹ ایسوسی ایشن کو کسی بھی طرح کا فنڈ جاری کرنے پر روک لگائی گئی ہے۔

First published: Dec 15, 2016 10:11 PM IST