ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بنگال میں بھیڑ کے ذریعہ خواتین کے پیٹے جانے کے واقعہ پر لوک سبھا میں ہنگامہ

مغربی بنگال میں بھیڑ کے ذریعہ خواتین کے پیٹے جانے کے واقعہ پر لوک سبھا میں ہنگامہ کارروائی ملتوی

  • UNI
  • Last Updated: Jul 25, 2018 02:59 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بنگال میں بھیڑ کے ذریعہ خواتین کے پیٹے جانے کے واقعہ پر لوک سبھا میں ہنگامہ
علامتی تصویر

نئی دہلی۔ مغربی بنگال میں بھیڑ کی طرف سے چار خواتین کو پیٹے جانے اور دو کو عریاں کئے جانے کے واقعہ پر لوک سبھا میں بدھ کو حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس کے درمیان سخت جھڑپ ہو ئی جس سے ایوان کی کارروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔ ایوان میں وقفہ صفر کے دوران بی جے پی کے کریٹ سومیا نے کہا کہ مغربی بنگال کے جلپائی گوڑي میں چار خواتین کی بھیڑ کی جانب سے پیٹے جانے اور ان میں سے دو خواتین کو عریاں کئے جانے کاواقعہ ہوا ہے۔ پولیس نے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے چاروں خواتین کو گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کیرالہ کے واقعات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک 32 سال کے نوجوان کو مرغی چور بتا کر اس کا قتل کر دیا گیا۔ اس سال جنوری میں ایک حاملہ خاتون کو بھیڑ نے مارا تھا۔ ایک معذور خاتون کو پاگل بتا کر چھیڑ خانی کی گئی۔


سومیا نے کہا’’یہ کیا لگا رکھا ہے مغربی بنگال میں؟ وہاں کی وزیر اعلی ممتا بنرجی خود خاتون ہیں، لیکن ان کے دور حکومت میں خواتین کی کیا حالت ہو رہی ہے‘‘۔ان کا اتنا کہتے ہی اپوزیشن بنچ پر بیٹھے ترنمول کانگریس کے رکن بھڑک اٹھے اور زور زور سے احتجاج کرنے لگے۔


سومیا کا مائیک بند ہونے کے بعد بھی وہ بولتے رہے اور مشتعل ہوکر سیٹ چھوڑ کر دو قطار آگے کی سیٹ تک آ گئے۔ اس سے ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی اور محمد ادریس ایوان کے وسط سے ہوتے ہوئے حکمراں فریق کی اگلی قطار تک پہنچ گئے اور دونوں جانب سے سخت جھڑپیں ہونے لگی۔  بنرجی مسلسل سومیا کو چیلنج کرنے لگے۔

اس پر مرکزی دیہی ترقیات کے وزیر نریندر سنگھ تومر سمیت کئی بی جے پی ایم پی معاملہ رفع دفع کے لئے آ گئے۔اسپیکر سمترا مہاجن نے اس ہنگامے کو دیکھ کر تقریباً 12.20 منٹ پر ایوان کی کارروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کر دی۔
First published: Jul 25, 2018 02:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading