ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسجد میں لاؤڈ اسپیکر سے اذان کو لیکر BHU Student کا ٹویٹ، پولیس نے دی کارروائی کی ہدایت

نیوز 18 نے کرونیش پانڈے سے ملاقات کی تو اس نے بتایا کہ وہ پچھلے 1 سال سے یہاں مقیم ہے۔ یہاں صبح سے شام تک تیز آواز ان کی ذہنی حالت کو متاثر کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی پڑھائی میں بھی خلل پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ درخواست وارانسی پولیس سے کی ہے۔

  • Share this:
مسجد میں لاؤڈ اسپیکر سے اذان کو لیکر BHU Student کا ٹویٹ، پولیس نے دی کارروائی کی ہدایت
نیوز 18 نے کرونیش پانڈے سے ملاقات کی تو اس نے بتایا کہ وہ پچھلے 1 سال سے یہاں مقیم ہے۔ یہاں صبح سے شام تک تیز آواز ان کی ذہنی حالت کو متاثر کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی پڑھائی میں بھی خلل پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ درخواست وارانسی پولیس سے کی ہے۔

مسجد میں لاؤڈ اسپیکر  (Loudspeaker) سے اذان  (Azan) کو لیکر پریشانی کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ معاملہ وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی Varanasi  سے جڑا ہے۔ یہاں بی ایچ ہو کے ایک اسٹوڈینٹ (BHU Student)  نے وارانسی پولیس کو ٹویٹ کرکے یہ شکایت کی ہے کہ گھر میں بغل میں مسجد ہے اور وہاں سے نکلنے والی آواز سے تناؤ ہو رہا ہے۔ مہربانی کرکے اس پر روک لگانے کی زحمت کریں۔ خاص بات یہ رہی کہ وارانسی پولیس نے باقاعدہ اس پر جواب دیتے ہوئے کارروائی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔


معاملہ وارانسی کے بھیدنی علاقے کا ہے، یہاں بی ایچ یو کا طالب علم کرونیش پانڈے کرائے پر کمرہ لیکر رہتے ہیں۔ کرونیش پانڈے نے جمعرات کی صبح وارانسی پولیس کو ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا، میں کرونیش پانڈے، ورانسی کے بھیدنی میں کمرہ لیکر رہتا ہوں۔ ہمارے بغل میں مسجد ہے جہاں ہر صبح، دوپیر، شام، رات لاؤڈ اسپیکر پر زور۔زور سے چلانے سے ذہنی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔  گزارش ہے کہ مناسب اقدامات کریں۔


اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے  وارانسی پولیس نے لکھا ، "مذکورہ کیس کے سلسلے میں ، بھیلوپور کے انچارج انسپکٹر کو کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔"


یہ ہے (BHU Student)  کا ٹویٹ۔۔۔

vns azan
(BHU Student) کے ٹویٹ پر پولیس کی کارروائی۔۔



پڑھائی میں رکاوٹ ڈالنے کی  کہی بات۔۔۔
نیوز 18 نے کرونیش پانڈے سے ملاقات کی تو اس نے بتایا کہ وہ پچھلے 1 سال سے یہاں مقیم ہے۔ یہاں صبح سے شام تک تیز آواز ان کی ذہنی حالت کو متاثر کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی پڑھائی میں بھی خلل پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ درخواست وارانسی پولیس سے کی ہے۔

 
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 19, 2021 02:19 PM IST