உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سری لنکائی بحریہ نے 12 ہندوستانی Fishermen کو کیا گرفتار، دو کشتیوں کو بھی کیا ضبط

    سری لنکائی بحریہ نے 12 ہندوستانی ماہی گیروں کو کیا گرفتار، دو کشتیوں کو بھی کیا ضبط

    سری لنکائی بحریہ نے 12 ہندوستانی ماہی گیروں کو کیا گرفتار، دو کشتیوں کو بھی کیا ضبط

    سری لنکائی بحریہ (Sri Lankan Navy) نے ملک کے آبی حدود میں غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑنے کے الزم میں 12 ہندوستانی ماہی گیروں کو گرفتار کیا ہے اور مچھلی پکڑنے والی دو کشتیوں کو بھی ضبط کرلیا ہے ۔

    • Share this:
      کولمبو : سری لنکائی بحریہ  (Sri Lankan Navy)  نے ملک کے آبی حدود میں غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑنے کے الزم میں 12 ہندوستانی ماہی گیروں کو گرفتار کیا ہے اور مچھلی پکڑنے والی دو کشتیوں کو بھی ضبط کرلیا ہے ۔ ایک آفیشیل بیان میں اتوار کو یہ جانکاری دی گئی ہے ۔ بحریہ نے بتایا کہ تلائی مننار کے شمال میں سمندر میں گرفتاریاں کی گئی ہیں ۔ اس نے کہا کہ یہ ماہی گیر سمندرمیں پانی کے نیچے جال بجھا کر مچھلیاں پکڑ رہے تھے ۔

      اس نے کہا کہ تلائی مننار کے شمال میں سمندر میں 12 فروری کی رات کو ایک مہم چلائی گئی ۔ اس دوران سری لنکائی بحریہ نے مچھلیاں پکڑنے میں استعمال ہونے والی دو ہندوستانی کشتیوں کو ضبط کرلیا اور سری لنکائی آبی حدود میں مچھلیاں پکڑ رہے 12 ہندوستانی ماہی گیروں کو گرفتار کرلیا ۔ سری لنکائی بحریہ نے اس مہینے میں تیسری مرتبہ مبینہ طور پر سری لنکائی آبی حدود میں ہندوستانی ماہی گیروں کی گرفتاری کی ہے ۔

      اس سے پہلے بحریہ نے 8 فروری کو بھی مبینہ طور پر سری لنکائی سمندر سرحد کے اندر مچھلیاں پکڑ رہے 11 ہندوستانی ماہی گیروں کو گرفتار کیا تھا اور مچھلی پکڑنے کی ان کی تین کشتیوں کو بھی ضبط کر لیا تھا ۔ اس نے یکم فروری کو 21 ہندوستانی ماہی گیروں کو گرفتار کیا تھا ۔ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات میں ماہی گیروں کا مدعا گزشتہ کافی عرصہ سے ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔

      سری لنکائی بحریہ کے ذریعہ جلڈمرو مدھیہ میں ہندوستانی ماہی گیروں پر گولی باری کرنے اور ان کی کشتیوں کو ضبط کر لینے کے مبینہ واقعات پیش آئے ہیں ۔ سری لنکا اور تمل ناڈو کے درمیان پاک جلڈمرو مدھیہ پانی کی ایک سنکری پٹی ہے ، جہاں مچھلیاں بڑی تعداد میں ملتی ہیں اور دونوں ممالک کے ماہی گیر وہاں مچھلیاں پکڑتے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: