உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھیم پور کھیری کے واقعہ پر سپریم کورٹ نے لیا از خود نوٹس ، کل سماعت

    سپریم کورٹ کی فائل فوٹو۔(Shutterstock)۔

    سپریم کورٹ کی فائل فوٹو۔(Shutterstock)۔

    Lakhimpur Violence : کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے بدھ کو لکھیم پور کھیری تشدد معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت عظمی کو اس معاملہ پر از خود نوٹس لیتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے لکھیم پور کھیری تشدد واقعہ کا ازخود نوٹس لیا ہے ۔ اب اس معاملہ کی سماعت کل یعنی جمعرات کو چیف جسٹس کی عدالت میں ہوگی ۔ لکھیم پور کھیری میں 3 اکتوبر کو تشدد کے واقعہ کو لے کر سپریم کورٹ سے کارروائی کا مسلسل مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں آٹھ افراد کی موت ہوگئی تھی۔ اس سے قبل کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے بدھ کو لکھیم پور کھیری تشدد معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت عظمی کو اس معاملہ پر از خود نوٹس لیتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئے ۔ اس کے علاوہ منگل کو سپریم کورٹ کو ایک خط بھی لکھا گیا ، جس میں 3 اکتوبر کے واقعہ کے معاملہ میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کی درخواست کی گئی تھی ۔

      دو وکیلوں نے خط لکھ کر چیف جسٹس این وی رمن سے درخواست کی کہ اس کو مفاد عامہ کی درخواست کے طور پر لیا جائے تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے ۔ اس میں وزارت داخلہ اور پولیس کو اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے اور واقعہ میں مبینہ طور پر شامل افراد کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔


      شیو کمار ترپاٹھی اور سی ایس پانڈا کے لکھے خط میں عدالت کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ایک مقررہ وقت میں اس میں سی بی آئی کو بھی شامل کرنے درخواست کی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ کو منگل کو ایک خط لکھ کر تین اکتوبر کے لکھیم پور کھیری واقعہ کے معاملہ میں عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری کی درخواست کی گئی ہے ۔

      وکلاء نے خط لکھ کر چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ اس کو مفاد عامہ کی عرضی کے طور پر لیا جائے تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ اس میں وزارت داخلہ اور پولیس کو اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کرنے اور واقعہ میں مبینہ طور پر شامل افراد کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: