உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوجوت سنگھ سدھو کے ٹویٹ پر کانگرس میں ہلچل ، پرشانت کشور سے راہل گاندھی کی ملاقات، بڑی تیاری؟

    نوجوت سنگھ سدھو کے ٹویٹ پر کانگرس میں ہلچل ، پرشانت کشور سے راہل گاندھی کی ملاقات، بڑی تیاری؟

    نوجوت سنگھ سدھو کے ٹویٹ پر کانگرس میں ہلچل ، پرشانت کشور سے راہل گاندھی کی ملاقات، بڑی تیاری؟

    PK Meets Rahul Gandhi: پرشانت کشور اور راہل گاندھی کی یہ ملاقات سابق کانگریس صدر کی دہلی میں واقع رہائش گاہ پر ہوئی ۔ بتادیں کہ یہ ملاقات کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو کے ٹویٹ کے بعد ہوئی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : انتخابی حکمت عملی بنانے والے پرشانت کشور نے منگل کو کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی ۔ پرشانت کشور اور راہل گاندھی کی یہ ملاقات سابق کانگریس صدر کی دہلی میں واقع رہائش گاہ پر ہوئی ۔ بتادیں کہ یہ ملاقات کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو کے ٹویٹ کے بعد ہوئی ہے ۔ نوجوت سنگھ سدھو نے ٹویٹ کرکے کہا کہ ہماری اپوزیشن پارٹی عام آدمی پارٹی نے ہمیشہ پنجاب کیلئے میرے ویزن اور کام کو پہچانا ہے ۔ سال 2017 سے پہلے کی بات ہوتو بے ادبی ، ڈرگس ، کسانوں کے مسائل ، بدعنوانی اور بجلی بحران کا سامنا پنجاب کے لوگوں نے میرے ذریعہ کیا یا آج جیسا کہ میں پنجاب ماڈل پیش کرتا ہوں ، یہ واضح ہے کہ وہ ( اے اے پی) جانتے ہیں ، حقیقت میں پنجاب کیلئے کون لڑ رہا ہے ۔

      بتادیں کہ عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی بھگونت مان نے بھی ٹویٹ کرکے سدھو کی تعریف کی ہے ۔ سدھو کے اس ویڈیو کو شیئر کرنے کے بعد کانگریس میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ اس کے علاوہ سدھو بھی مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعہ پارٹی کے اندر تذبذب کی حالت بنائے ہوئے ہیں ۔ بتادیں کہ کانگریس کی پنجاب یونٹ میں جاری رسہ کشی کو ختم کرنے کیلئے جاری کوششوں کے درمیان کچھ دنوں پہلے سابق وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے ساتھ طویل ملاقات کی تھی ۔ مانا جارہا ہے کہ ان میٹنگوں میں کانگریس اعلی کمان کی جانب سے سدھو کو پارٹی یا تنظیم میں قابل عزت عہدہ کی پیش کش کے ساتھ منانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ حالانکہ ابھی بھی پنجاب کانگریس میں مچی ہلچل ختم نہیں ہوسکی ہے ۔

      سال 2017 مارچ میں پنجاب میں اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی چھوڑ چکے نوجوت سنگھ سدھو سیاست میں نئے متبادل تلاش کررہے تھے ۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ عام آدمی پارٹی سے لے کر کئی دیگر پارٹیوں میں شامل ہونے کے ان کے پاس متبادل تھے ۔ کانگریس ہائی کمان سے بھی ان کی بات چل رہی تھی ۔ اس کے بعد سدھو الیکشن سے تقریا دو ماہ پہلے کانگریس میں شامل ہوگئے تھے ۔ انتخابی تشہیر کے دوران سے ہی یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو ان کا نائب وزیر اعلی بننا تقریبا طے ہے ۔ ایسا مانا جارہا تھا کہ وہ نائب وزیر اعلی بننے کی شرط پر ہی کانگریس میں شامل ہوئے ہیں ۔ حالانکہ کانگریس ہائی کمان نے اس بات کو کبھی عام نہیں کیا تھا ۔

      الیکشن میں کانگریس نے 117 میں سے 77 سیٹیں غیر متوقع طور پر جیتیں ۔ کیپٹن امریندر کا وزیر اعلی بننا پہلے سے طے تھا ۔ ایسے میں سدھو کو نائب وزیر اعلی بنائے جانے کی بحث زوروں پر تھیں ۔ سدھو بھی اس بات کو لے کر پراعتماد تھے ۔ تاہم حلف برداری تقریب سے پہلے سدھو کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب کیپٹن نے یہ کہا کہ پنجاب کو نائب وزیر اعلی کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ اس کے بعد سدھو کو وزیر بنایا گیا ۔ سیاسی ماہرین مانتے ہیں کہ اس کے بعد سے ہی سدھو اور کیپٹن کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: