உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طلاق ثلاثہ بل کو صدر رام ناتھ کووند سے ملی منظوری، 19 ستمبر 2018 سے ہوا نافذ

    صدر رام ناتھ كووند نےدی طلاق ثلاثہ بل کو منظوری

    صدر رام ناتھ كووند نےدی طلاق ثلاثہ بل کو منظوری

    لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہونے کے بعد اب تین طلاق بل کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے منظوری دے دی ہے۔ صدر جمہوریہ سے ملی منظوری کے بعد تین طلاق قانون بن گیا ہے۔

    • Share this:
      صدر رام ناتھ كووند نے بدھ کی رات کو طلاق ثلاثہ بل کو منظوری دے دی۔ جس کے ساتھ ہی یہ قانون بن گیا اور اسے 19 ستمبر 2018 سے مؤثر تصور کیا جائے گا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہونے کے بعد اب تین طلاق بل کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے منظوری دے دی ہے۔ صدر جمہوریہ سے ملی منظوری کے بعد تین طلاق قانون بن گیا ہے۔
      سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی۔
      اس سے پہلے یہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور ہوا تھا۔اسے 25 جولائی کو لوک سبھا نے جبکہ 30 جولائی کو راجیہ سبھا نے منظور کیا تھا۔ لوک سبھا میں بل کے حق میں 303 اور مخالفت میں 82 ووٹ پڑے تھے اور راجیہ سبھا میں اس کی حمایت میں 99 اور مخالفت میں 84 ووٹ ڈالے گئے تھے۔اس سے پہلے بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی اپوزیشن کی مانگ کو بھی ایوان میں منظوری نہیں ملی تھی۔
      ستمبر 2018 کے بعد سے تین طلاق کے آنے والے تمام معاملوں کی سماعت اسی قانون کے تحت کی جائے گی۔
      تین طلاق بل پاس ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کرکے سبھی ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا تھا۔ پی ایم مودی نےٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کیلئے آج ایک تاریخی دن ہے۔ آج کروڑوں مسلم ماؤں ۔بہنوں کی جیت ہوئی ہے اور انہیں عزت سے جینے کا حق ملا ہے۔ صدیوں سے تین طلاق سے متاثر خواتین کو آج انصاف ملا ہے۔ اس تاریخی موقع پر میں تمام ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ اداکرتا ہوں۔





      First published: