உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کل شام ہوسکتی ہے مودی کابینہ میں توسیع ، کئی نئے چہروں کو ملے گا موقع

    کل شام ہوسکتی ہے مودی کابینہ میں توسیع ، کئی نئے چہروں کو ملے گا موقع

    کل شام ہوسکتی ہے مودی کابینہ میں توسیع ، کئی نئے چہروں کو ملے گا موقع

    Union Cabinet Reshuffle: مرکزی کابینہ میں پھیر بدل کو لے کر جاری بحث کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے تنظیمی مہامنتری بی ایل سنتوش کے ساتھ میٹنگ کی تھی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : مرکزی کابینہ میں بدھ کو توسیع ہوسکتی ہے ۔ فی الحال وزیر اعظم مودی کی کابینہ میں وزرا کے تعداد 53 ہے ، جس کو بڑھا کر 81 کی جاسکتی ہے ۔ ایسی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ کابینہ میں ہونے والی یہ توسیع اگلے اسمبلی انتخابات کو دھیان میں رکھ کر کی جاسکتی ہے ۔ مرکزی کابینہ میں پھیر بدل کو لے کر جاری بحث کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے تنظیمی مہامنتری بی ایل سنتوش کے ساتھ میٹنگ کی تھی ۔

      خبر ہے کہ کابینہ میں شامل کئے جانے والے لیڈروں کو دہلی بلایا جارہا ہے ۔ دہلی پہنچنے والے لیڈروں میں گزشتہ سال کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوئے جیوترادتیہ سندھیا ، آسام کے سابق وزیر اعلی سربانند سونووال ، مہاراشٹر کے سینئر لیڈر نارائن رانے شامل ہیں ۔ اسی کے ساتھ اپنا دل کی انو پریہ پٹیل کو بھی راجدھانی بلایا گیا ہے۔ بتادیں کہ کچھ دن پہلے پٹیل نے وزیر داخلہ سے ملاقات بھی کی تھی ۔



      پھیر بدل میں اترپردیش پر خاص توجہ دی جاسکتی ہے ، کیونکہ اگلے سال کے آغاز میں وہاں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور سیاسی طور پر یہ ملک کی سب سے اہم ریاست مانی جاتی ہے ۔

      ذرائع کے مطاب مغربی بنگال کا نمائندہ وفد بھی اس توسیع میں بڑھ سکتا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ بی جے پی کی ساتھی پارٹیوں جے ڈی یو اور اپنا دل ( ایس ) کو بھی نمائندگی مل سکتی ہے ۔ آر پی آئی لیڈر رام داس اٹھاولے واحد ایسے غیر بی جے پی لیڈر ہیں جو مودی کابینہ میں شامل ہیں ۔

      لوک جن شکتی پارٹی کے بانی رام ولاس پاسوان کا گزشتہ سال انتقال ہوگیا تھا اور ایسے میں سب کی نظریں اس بات پر بھی مرکوز ہیں کہ بھائی پشوپتی کمار پارس کو وزیر بنایا جاتا ہے یا نہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ ایل جے پی ان دونوں پارس اور ان کے بھتیجے چراغ پاسوان کی قیادت والے دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: