ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہشت گردی پر ایکشن: اسمبلی انتخابات کی ہلچل کے درمیان جموں۔کشمیر میں بھیجے جارہے اور 25،000جوان

تقریبا ایک ہفتہ پہلے حکومت نے جموں۔کشمیر میں10 ہزار سے زیادہ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی بات کہی تھی۔ جس کے بعد سے اتنی بڑی تعداد میں جوانوں کی تعیناتی کو لیکر قیاس لگائے جانے لگے تھے۔

  • Share this:
دہشت گردی پر ایکشن: اسمبلی انتخابات کی ہلچل کے درمیان جموں۔کشمیر میں بھیجے جارہے اور 25،000جوان
فائل فوٹو

جموں۔کشمیر میں 25،000 جوان اور بھیجےجانے کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے وادی میں 100 کمپنیوں کو بھیجنے کی بات کہی تھی۔ پیرا ملٹری دورس کے ان جوانوں کو وادی میں اور فوج بھیجنے کیلئےحکومت کی جانب سے زبانی احکام جاری کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ صرف گزشتہ 4 دنوں میں سی اے پی ایف کی 281 کمپنیاں جموں۔کشمیر میں پہنچ چکی ہیں۔

اس دوران امرناتھ یاتراکو بھی 4 اگست تک کیلئے روک دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے مد نظر ایسا کیا گیا ہے۔ حالانکہ محکمہ موسم نے موسم میں کسی بڑی تبدیلی کی بات نہیں کہی ہے۔

سرکاری ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یاترا کی سکیورٹی میں لگے کچھ جوانوں کی بھی لوکیشن بدل دی گئی ہے اور انہیں وادی میں سکیورٹی پر لگایا گیا ہے۔  امرناتھ یاترا میں تقریبا 400 ٹکڑی یعنی 40ہزار جوانوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیر میں تعینات جوانوں میں سے کسی بھی ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کو تعینات رہنے کو بھی کہا گیا ہے۔

بتادیں کہ آرمی چیف بپن راوت بھی سکیورٹی انتظام کا جائزہ لینے کیلئے جمعرات کو سری نگر پہنچے۔ وہ اگلے دن کشمیر میں ہی رہیں گے۔ گزشتہ مرتبہ 10 ہزار سے زیادہ جوانوں کی تعیناتی بھی قومی سکیورٹی صلاحکار اجیت ڈوبھال کے جموں۔کشمیر دورے سے لوٹنے کے بعد کی گئی تھی۔

First published: Aug 02, 2019 07:54 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading