உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں متعدد ملی تنظیموں کی میٹنگ ، جے این یو تشدد پر کہی یہ بڑی بات

    ارشد مدنی کی صدارت میں متعدد ملی تنظیموں کی میٹنگ ، جے این یو تشدد پر کہی یہ بڑی بات

    ارشد مدنی کی صدارت میں متعدد ملی تنظیموں کی میٹنگ ، جے این یو تشدد پر کہی یہ بڑی بات

    میٹنگ میں جمعیۃعلماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، ملی کونسل، مسلم مجلس مشاورت کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
    شہریت ترمیمی قانون کی منظوری اوراین پی آرکو نافذ کرنے کے اعلان کے بعد ملک بھرمیں ہونے والے احتجاج اور یونیورسٹی میں طلبہ پر حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جمعیتہ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ یونیورسیٹیوں میں طلبہ پر ہونے والے حملوں کی عدالتی جانچ کرائی جائے۔ ملک کے حالات، ملک میں کس طرح امن واتحاد قائم کیا جاسکتاہے اور اس قانون کے خلاف ہماراموقف کیا ہو ، ان تمام باتوں پر غوروخوض کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے صدر دفتر میں مولانا سید ارشد مدنی کی صدارت میں پہلی بارملک کی متعدد ملی تنظیموں کی ایک اہم میٹنگ  ہوئی ۔

    اس میٹنگ میں جمعیۃعلماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، ملی کونسل، مسلم مجلس مشاورت کے ذمہ داران کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اورمتعدد اہم شخصیات نے ملک کی مختلف ریاستوں سے شرکت کی۔

    میٹنگ میں شہریت ترمیمی قانون 2019 این آرسی اور این پی آرکے مختلف پہلووں اور اس کے خلاف ملک گیر سطح پر چلنے والی تحریک کا تفصیلی جائزہ لے کر ایک قرارداد بھی منظورکی گئی۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ دینی وملی تنظیموں کا یہ اجتماع شہریت ترمیمی قانون 2019، این پی آراور این آرسی کے قوانین کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتاہے۔ شہریت ترمیمی قانون نہ صرف ملک کی تکثیری حیثیت کے خلاف ہے ، بلکہ دستورہند سے بھی متصادم ہے۔



    قرارداد کے مطابق یہ اجلاس جامعہ ملیہ اسلامیہ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دیگر طلبہ  ونوجوانوں کے ذریعہ چلائی جارہی تحریکوں کی بھرپورحمایت اور حوصلہ افزائی کرتاہے اور پولس کے ذریعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جواہر لال نہرویونیورسٹی اور حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی وغیرہ کے طلبہ پر حملوں کی پرزورمذمت کرتاہے۔ ماسک بردارناپسندیدہ عناصر کے ذریعہ ملک کی معروف یونیورسٹی جے این یو کے طلبہ پر حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
    First published: