ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسی بھی مجرم کو پھانسی پر چڑھا سکتا ہوں، لیکن نربھیا کی ماں کا سامنا کرنےکی ہمت نہیں

پون جلاد نے کہا کہ اب نربھیا کی ماں سے اسی دن ملاقات کروں گا، جب اس کے مجرمین کو پھانسی پر چڑھا دوں گا۔

  • Share this:
کسی بھی مجرم کو پھانسی پر چڑھا سکتا ہوں، لیکن نربھیا کی ماں کا سامنا کرنےکی ہمت نہیں
پون جلاد گزشتہ چار دہائی سے مجرمین کو پھانسی دینے کا کام کررہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: جلاد کا لفظ آتے ہی ذہن میں آتا ہے ایک سخت دل کا انسان، جو بڑی سے بڑی بات کو بھی آسانی سے جھیل سکتا ہے، لیکن نربھیا اجتماعی آبروریزی کی جب بات ہو تو جلاد کا دل بھی ایسے معاملوں میں کمزور ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ پون جلاد کے ساتھ بھی ہوا۔ پون جلد ہی نربھیا کے مجرمین کوپھانسی دینےجارہا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ اگریہ فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہوتا تووہ ایک گھنٹے میں ہی چاروں مجرمین کو پھانسی دے دیتا۔ تاہم نربھیا کی ماں آشا دیوی سے ملنے کی بات پرپون کہتا ہےکہ میں کسی بھی مجرم کو پھانسی پرچڑھا سکتا ہوں، کسی کی بھی موت دیکھ سکتا ہوں، لیکن اس ماں کا سامنا کرنےکی ہمت نہیں ہے۔ پون کا کہنا ہےکہ اب میں ان سے اسی دن ملاقات کروں گا، جب چاروں کو پھانسی پر چڑھا دوں گا۔


بیٹی کے قصورواروں کے زندہ رہنے کا درد نظرآتا ہے


پون نےکہا کہ ویسے تو میری کبھی بھی آشا دیوی سے ملاقات نہیں ہوئی، لیکن ایک دوبارٹی وی پروگرام کےدوران آمنے سامنےضرورآئے۔ حالانکہ میں ہی الگ ہٹ گیا۔ بیٹی کے قصورواروں کےزندہ رہنےکا درد ان کے چہرے پر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ پون نےکہا کہ انہیں سکون تبھی ملےگا، جب چاروں کو پھانسی ہوجائےگی۔ جس شدت کے ساتھ ایک ماں اپنی بیٹی کے گنہگاروں کوسزا دلانےکےلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے، اسے دیکھ کرافسوس ہوتا ہےکہ یہ چاروں ابھی تک زندہ کیوں ہیں۔


نربھیا کے مجرمین کو 22 جنوری کو دی جائےگی پھانسی۔


تین نسل سے پھانسی دینے کا کام کرتا ہے یہ خاندان

پون جلاد میرٹھ کی آلوک وہارکالونی میں رہتا ہے۔ پون کا خاندان نسل درنسل جیل میں پھانسی دینےکا کام کرتا رہا ہے۔ پون سے پہلے اس کے پردادا لکشمن سنگھ، دادا کلو جلاد اورباپ ممو سنگھ بھی پھانسی دینےکا کام کرتے تھے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اب پون پھانسی دیتا ہے۔

آپ بیتی میں جلاد پون نے اپنا درد بیان کیا 

پون جلاد نے بتایا کہ والد کے بعد سے میں اس کام کو مختلف اضلاع میں جاکر انجام دے رہا ہوں۔ کچھ وقت پہلے تک مجھے میرٹھ جیل سے تین ہزار روپئے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ میری کوششوں کے بعد تنخواہ بڑھا کر پانچ ہزار روپئے ملنے لگی، لیکن آج کی اس مہنگائی کے دور میں اب پانچ ہزار روپئے بھی ناکافی ثابت ہورہے ہیں۔ فیملی کی پرورش کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ میں گزشتہ کافی وقت سے مسلسل متعلقہ افسران سے تنخواہ بڑھانےکی ضمن میں گہارلگا رہا ہوں، لیکن ابھی تک اس معاملے میں میری سماعت نہیں ہوئی ہے۔
First published: Jan 08, 2020 06:25 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading