ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بی جے پی نے دہلی کی شکست سے کوئی سبق نہیں لیا : اڈوانی، جوشی ، یشونت سنہا

نئی دہلی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سمیت چار سینئر لیڈروں نے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شرمناک شکست کی باریکی سے غوروفکر اور مکمل جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے دہلی اسمبلی الیکشن سے کوئی سبق نہیں لیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 11, 2015 08:32 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بی جے پی نے دہلی کی شکست سے کوئی سبق نہیں لیا : اڈوانی، جوشی ، یشونت سنہا
نئی دہلی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سمیت چار سینئر لیڈروں نے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شرمناک شکست کی باریکی سے غوروفکر اور مکمل جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے دہلی اسمبلی الیکشن سے کوئی سبق نہیں لیا۔

نئی  دہلی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سمیت چار سینئر لیڈروں نے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شرمناک شکست کی  باریکی سے غوروفکر اور مکمل جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے دہلی اسمبلی الیکشن سے کوئی سبق نہیں لیا۔


بہار میں بی جے پی کی اہانت آمیز شکست کے پیش نظر پارٹی کے مارگ درشک منڈل کے سربراہ لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، یشونت سنہا اور شانتا کمار نے تجزیاتی میٹنگ کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائچ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ دہلی اسمبلی ا لیکشن میں پارٹی کی شکست سے کوئی سبق نہیں لیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "بہار میں پارٹی کی شکست کے لئے تمام لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کا مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ اس کے لئے کوئی ذمہ دار نہیں ہے"۔


مرکز میں مودی سرکار بننے کے بعد بی جے پی کی طرف سے بنائے گئے مارگ درشک منڈل میں شامل چاروں بزرگوں کی طرف سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق یہ صاف دیکھا جا رہا ہے کہ پارٹی کی بہار میں جیت ہونے کی صورت میں سارا کریڈٹ لینے والے لوگ اب پارٹی کی شرمناک شکست کی ذمہ داری لینے سے بچ رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکست کی سب سے اہم وجہ اس کا گزشتہ انتخابات کی طرح کمزور اور بے اثر ہونا ہے۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ" شکست کی وجوہات کا مکمل جائزہ لینے کے ساتھ اس بات کا بھی تجزيہ ہونا چاہئے کہ کس طرح پارٹی مٹھی بھر لوگوں کے سامنے سر جھکا کر رہ گئی ہے اور کیسے اس کی اتفاق رائے کا طریقہ کار ختم ہو گیاہے۔ یہ تجزيہ ان لوگوں کی طرف سے نہیں کی جانی چاہئے جنہوں نے اپنے ہاتھ میں سب کچھ لے لیا ہے اور جن کے پاس بہار انتخابی مہم کی ذمہ داری تھی"۔

First published: Nov 11, 2015 08:30 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading