اپنا ضلع منتخب کریں۔

    11 قصورواروں کی وقت سے پہلے رہائی کیوں؟ بلقیس بانو نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ

    بلقیس بانو (فائل فوٹو)

    بلقیس بانو (فائل فوٹو)

    Bilkis Bano case: بلقیس بانو نے 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کو چیلنج کیا ہے اور اس کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: بلقیس بانو کے قصورواروں کی وقت سے پہلے رہائی کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ بلقیس بانو نے 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کو چیلنج کیا ہے اور اس کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور تمام قصورواروں کو واپس جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ بلقیس نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ فی الحال اس معاملے کی سماعت کب ہوگی اس کی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

      آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے قبل بلقیس بانو نے کہا تھا کہ ان کے اور ان کے خاندان کے سات افراد سے متعلق کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی نے انصاف پر ان کا اعتماد توڑ دیا ہے۔ بلقیس بانو کے اجتماعی عصمت دری اور ان خاندان کے سات افراد کے قتل میں مجرم قرار دیے گئے تمام 11 افراد کو 15بی جے پی کی قیادت والی گجرات حکومت نے معافی کی پالیسی کے تحت اگست کو گودھرا سب جیل سے رہا کر دیا گیا تھا جب انہیں معاف کر دیا تھا۔

      گجرات حکومت کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے بلقیس نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ 'اتنا بڑا اور غیر منصفانہ فیصلہ' لینے سے پہلے کسی نے ان کی حفاظت کے بارے میں نہیں پوچھا اور نہ ہی ان کی بھلائی کے بارے میں سوچا۔ انہوں نے گجرات حکومت سے کہا کہ وہ اسے تبدیل کرے اور انہیں 'بغیر خوف کے امن سے رہنے' کا حق دے۔

       

      بچے نہ دیکھ پائیں فحش فلمیں، اس لئے فون میں آج ہی بدل دیں یہ سیٹینگ

      Pakistan Blast: کویٹا میں پولیس ٹرک پر خودکش حملہ، بچے سمیت 3 کی موت، 27 زخمی

      گجرات حکومت نے 2002 کے گودھرا فسادات کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرنے اور اس کے خاندان کے افراد کو قتل کرنے والے 11 مجرموں کو معافی دی تھی۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ 9 جولائی 1992 کے ایک سرکلر میں ان قیدیوں کو جلد رہا کرنے کے لیے ایک پالیسی جاری کی تھی جو 14 سال کی قید مکمل کر چکے ہیں، جن کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: