ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اڈوانی ، جوشی اور یشونت کے سوال پر بی جے پی نے پارٹی کے تین سابق صدور کو میدان میں اتارا

نئی دہلی: بہار اسمبلی انتخابات میں ہوئی زبردست شکست کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنماؤں کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 11, 2015 12:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اڈوانی ، جوشی اور یشونت کے سوال پر بی جے پی نے پارٹی کے تین سابق  صدور کو میدان میں اتارا
نئی دہلی: بہار اسمبلی انتخابات میں ہوئی زبردست شکست کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنماؤں کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

نئی دہلی: بہار اسمبلی انتخابات میں ہوئی زبردست شکست کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنماؤں کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، یشونت سنہا اور شانتا کمار نے پارٹی کی شکست کے لئے پارٹی قیادت پر سوال اٹھائے ہیں۔


ان سینئر لیڈروں کے بیان کے فوراً بعد تین مرکزی وزراء راج ناتھ سنگھ، وینکیا نائیڈو اور نتن گڈکری نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے کہا، ’ہم نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا بیان پڑھا ہے۔ پارٹی کے تمام لوگ بہار اسمبلی انتخابات میں شکست سے فکر مند ہیں اور ہم اس سلسلے میں اپنے سینئر رہنماؤں کی تجاویز کا خیر مقدم كریں گے‘۔


پارٹی پارلیمانی بورڈ نے کل شکست کی وجوہات پر تفصیلی بحث کی تھی اور مختلف فورمز پر اور پارٹی سینئر رہنماؤں کے ساتھ بھی اس پر بحث کی جائے گی اور کوتاہیوں کودور کیا جائے گا۔ پارٹی قیادت کا دفاع کرتے ہوئے ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ پارٹی نے مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ سال ہوئے لوک سبھا انتخابات میں جیت حاصل کی تھی۔


اس کے بعد پارٹی نے جھارکھنڈ، ہریانہ، مہاراشٹر اور جموں و کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں جیت درج کی اور حال ہی میں پارٹی نے کرناٹک، مہاراشٹر، انڈمان، کیرالہ اور آسام کے مقامی بلدیاتی انتخابات میں جیت حاصل ہوئی۔


ان تينوں وزراء نے کہا ہے کہ پارٹی خوش قسمت ہے کہ مسٹر اٹل بہاری واجپئی اور مسٹر ایل کے اڈوانی کی قیادت دہائیوں تک حاصل ہوئی۔ ان لیڈروں نے پارٹی کی جیت اور ہار کی اجتماعی ذمہ داری لینے کی صحت مند روایت شروع کی تھی۔ پارٹی اپنے بزرگ رہنماؤں کی رہنمائی اور تجاویز کا یقینی طور پر خیرمقدم کرے گی۔


پارٹی کے ان تین سابق صدور کے بیان سے پہلے مسٹر اڈوانی اور تین بزرگ رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ بہار اسمبلی انتخابات کے نتیجہ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی زبردست شکست سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔’ بہار میں پارٹی کی شکست کے لئے تمام لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کا مطلب یہ کہنا ہے کہ کوئی ذمہ دار نہیں ہے‘۔


بیان کے مطابق یہ صاف دیکھا جا رہا ہے کہ پارٹی کی بہار میں جیت کی صورت حال میں سارا کریڈٹ لینے والے لوگ پارٹی کی زبردست شکست کی ذمہ داری لینے سے بچ رہے ہیں۔ اس الیکشن میں پارٹی کی شکست کی سب سے اہم وجہ اس کا گزشتہ انتخابات کی طرح کمزور اور بے اثر ہونا ہے۔


بیان میں کہا گیا ’ہار کی وجوہات کا مکمل جائزہ لینے کے ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ کس طرح چند لوگوں کے سامنےپارٹی سر جھکا رہی ہے اور اس کی اتفاق رائے سے کام کرنے والی عادت ختم ہو گئی ہے۔ یہ جائزہ ان لوگوں کو نہیں لینا چاہئے جن کے ہاتھوں میں سب کچھ تھا اور جن کے پاس بہار انتخابی مہم کی ذمہ داری تھی۔

First published: Nov 11, 2015 12:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading