உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی نے سابق دہشت گرد کو دیا ٹکٹ

    انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار کو لے کر بھی کافی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

    انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار کو لے کر بھی کافی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

    انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار کو لے کر بھی کافی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ خبر ہے کہ بی جے پی نے ایک سابق دہشت گرد کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔

    • Share this:
      جموں و کشمیر کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ بی جے پی کے کشمیر وادی میں کم سے کم سات نگر پالیکا سمیتیوں پر جیت درج کرنے کا امکان ہے ۔ جموں و کشمیر میں تقریبا سات سال کے بعد ہورہے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کے 60 امیدواروں نے بلامقابلہ جیت درج کی ہے۔ انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار کو لے کر بھی کافی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ خبر ہے کہ بی جے پی نے ایک سابق دہشت گرد کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔
      اس سابق دہشت گرد کا نام محمد فاروق خان عرف سیف اللہ ہے ، جس کو بی جے پی نے سری نگر کے وارڈ 33 سے امیدوار بنایا ہے ۔ سیف اللہ کا کہنا ہے کہ میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اور حرکت المجاہدین میں تھا ، جیل سے باہر آنے کے بعد میں نے سابق دہشت گردوں کی باز آبادکاری کیلئے جموں و کشمیر ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن کی تشکیل کی تھی۔ کسی نے میری حمایت نہیں کی ، یہاں تک کہ انہوں نے بھی نہیں ، جن کیلئے میں نے بندوق اٹھائی تھی ۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ صرف نوٹ گن رہے تھے۔








      محمد فاروق خان کے مطابق لوگ پہلے بھی میرے ساتھ غلط رویہ اختیار کررہے تھے اور آج بھی کررہے ہیں ، لیکن میں امن کیلئے کام کررہا ہوں ۔ میں جیت کر سابق دہشت گردوں کی بازآبادکاری اور ان کے بچوں کی تعلیم پر اپنی کمائی خرچ کروں گا ۔ میں نے بازآبادکاری پالیسی کے تحت خود سپردگی نہیں کی ہے۔
      محمد فاروق خان نے کہا کہ میں نیپال سے نہیں آیا تھا ، میں بہت لمبا سفر طے کرکے آیا ہوں ، میں نے ساڑھے دس سال کی جیل کی سزا پوری کی ہے ، جو کہہ رہے ہیں کہ میں نیپال سے آیا ہوں اگر وہ معافی نہیں مانگتے ہیں تو میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراوں گا۔

      یہ بھی پڑھیں : جموں و کشمیر بلدیاتی انتخابات میں 60 سیٹوں پر بی جے پی کی بلا مقابلہ جیت ، 172 وارڈوں پر نہیں کوئی امیدوار

       
      First published: